کوالالمپور (شِنہوا) ملائیشیا کے ایک معروف ٹیکنالوجی مبصر نے کہا ہے کہ چین کئی ابھرتے ہوئے شعبوں میں صنعتی جدت کی قیادت کرنے کی صلاحیت تیزی سے حاصل کر رہا ہے۔
ملائیشین ڈیجیٹل ایسوسی ایشن (ایم ڈی اے) کے سابق صدر اور معروف ٹیکنالوجی تجزیہ کار سرم تیک چون نے کہا کہ عالمی سائنس و ٹیکنالوجی میں چین کا بدلتا ہوا کردار اس کی صنعتی ترقی اور منڈی کی کارکردگی سے واضح ہوتا ہے۔
انہوں نے شِنہوا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ میں اس جائزے سے اتفاق کرتا ہوں کہ چین عالمی سائنس اور ٹیکنالوجی میں محض ایک شریک اور معاون ملک سے آگے بڑھ کر ایک پیش رو اور رہنما کی حیثیت اختیار کر رہا ہے۔
سرم تیک چون طویل عرصے سے جنوب مشرقی ایشیا اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی اور صنعت کے شعبوں میں تعاون کا مشاہدہ کرتے رہے ہیں، انہوں نے انسان نما روبوٹس کی صنعت کو اس کی نمایاں مثال قرار دیا۔
ان کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں تقریباً 13 ہزار انسان نما روبوٹس فروخت ہوئے جبکہ عالمی سطح کے نمایاں پیداوار کنندگان میں چینی کمپنیوں کا غلبہ رہا۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف عالمی منڈی میں حصہ لینے تک محدود کامیابی نہیں بلکہ ترسیلی سلسلے کی مضبوطی، لاگت پر موثر کنٹرول اور بڑے پیمانے پر تیز رفتار پیداوار میں چین کی ساختی برتری کا ثبوت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ چین نہ صرف عالمی ٹیکنالوجی صنعت کا ایک اہم حصہ ہے بلکہ بعض جدید اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں صنعتی ترقی کی قیادت کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر رہا ہے۔
سرم کے مطابق چین کی تیز رفتار ترقی کی ایک بڑی وجہ جدت کا ایسا مکمل نظام ہے جو تحقیق و ترقی، صنعتی ترسیلی سلسلے، عملی استعمال اور منڈی سے ملنے والے تجربات کو آپس میں جوڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین نے صارفین کے لئے الیکٹرانکس، نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں اور ذہین روبوٹس پر مشتمل ایک جامع پیداواری نظام قائم کیا ہے جس میں بنیادی پرزوں کی تیاری سے لے کر مکمل مصنوعات اور ان کے عملی استعمال تک تمام صلاحیتیں موجود ہیں۔
ان کے مطابق چین کی وسیع مقامی منڈی نئی ٹیکنالوجی کو تیزی سے آزمانے، بہتر بنانے اور بڑے پیمانے پر متعارف کرانے کا موقع فراہم کرتی ہے جبکہ تجارتی استعمال سے حاصل ہونے والا تجربہ سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی میں مزید جدت کا باعث بنتا ہے۔
سرم نے امید ظاہر کی کہ چین مستقبل میں خاص طور پر روبوٹکس، ڈرونز اور ذہین پیداوار کے شعبوں میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ تکنیکی تعاون کو مزید فروغ دے گا۔
انہوں نے کہا کہ جنوب مشرقی ایشیا اس وقت صنعتی ترقی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے جبکہ چین کی ٹیکنالوجی اور صنعتی تجربہ خطے کی پیداوار، زرعی جدت اور نقل وحمل کے شعبوں کی ضروریات کو پوراکرتا ہے۔


