ہومتازہ ترینچین کے جدید ہائی ٹیک کے تین اہم شعبے، تیز جدت طرازی...

چین کے جدید ہائی ٹیک کے تین اہم شعبے، تیز جدت طرازی سے برآمدات کی نمو کے محرک بن گئے

بیجنگ (شِنہوا) روبوٹ، مصنوعی ذہانت سے متعلق مصنوعات اور جدید ادویات چین کی برآمدی نمو کے نئے محرکات کے طور پر ابھر رہے ہیں کیونکہ ملک جدت طرازی کے بل بوتے پر اعلیٰ قدر والی صنعتوں میں قدم جما رہا ہے۔

جمعہ کو جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں چین کی برآمدات گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 17.8 فیصد بڑھیں، جبکہ صنعتی روبوٹس اور تھری ڈی پرنٹرز سمیت ہائی ٹیک مصنوعات نے برآمدات میں ہونے والے مجموعی اضافے میں تقریباً 60 فیصد حصہ ڈالا۔

گزشتہ ماہ صنعتی روبوٹس کی برآمدات 13.2 فیصد بڑھ کر 7.34 ارب یوآن (تقریباً 1.1 ارب امریکی ڈالر) ہو گئیں۔ یہ رجحان 2025 کی اس رفتار کا تسلسل ہے جب چین پہلی بار صنعتی روبوٹس کا خالص برآمد کنندہ بنا تھا۔

صنعتی روبوٹس سے ہٹ کر چین کے بنائے ہوئے صارف اور انسان نما روبوٹ بھی دنیا بھر میں پیداوار اور روزمرہ کی زندگی میں وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ اس سال کی پہلی ششماہی میں جراحی روبوٹس کی برآمدات سالانہ بنیادوں پر 3.3 گنا بڑھ کر 48 کروڑ یوآن تک پہنچ گئیں جبکہ صفائی والے روبوٹس اور ذہین بائیونک روبوٹس جن میں انسان نما روبوٹ، روبوٹک کتے اور بائیومیمیٹک مچھلیاں اور پرندے شامل ہیں، کی برآمدات 18.09 ارب یوآن تک پہنچ گئیں۔

مصنوعی ذہانت سے متعلقہ برآمدات میں بھی تیزی آئی۔ جنوری سے جون کے عرصے میں الیکٹرانک اجزاء اور کمپیوٹر پارٹس کی برآمدات میں دو ہندسوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس نے مجموعی برآمدی نمو میں مل کر 6.9 فیصد پوائنٹس کا حصہ ڈالا۔

تیار شدہ مصنوعات سے آگے بڑھ کر چین کی ٹیکنالوجی برآمدات اب ڈیجیٹل خدمات تک پھیل چکی ہیں جہاں کمپنیاں عالمی منڈیوں کو مصنوعی ذہانت الگورتھم، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل حل کی فراہمی میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔ بڑے لسانی ماڈلز کو اکٹھا کرنے والے عالمی پلیٹ فارم اوپن راؤٹر کے مطابق جولائی میں اس کے پلیٹ فارم پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والے تمام چھ ماڈلز چین میں تیار کردہ اوپن سورس ماڈلز تھے۔

یہ تبدیلی ادویات سازی کی صنعت میں بھی نمایاں ہے جہاں چینی کمپنیاں نئی ادویات کے لائسنسنگ معاہدوں کے ذریعے اپنی جدت طرازیاں تیزی سے عالمی سطح پر لے جا رہی ہیں۔

پہلی ششماہی میں چینی کمپنیوں نے 20 ممالک اور خطوں بشمول امریکہ، برطانیہ، فرانس اور اٹلی کے شراکت داروں کے ساتھ جدید ادویات کے لئے 81 بیرون ملک لائسنسنگ معاہدوں پر دستخط کئے۔ ان معاہدوں کی مجموعی مالیت 2025 کے پورے سال کے اعداد و شمار کے 80 فیصد تک پہنچ گئی۔

نیشنل میڈیکل پروڈکٹس ایڈمنسٹریشن کے مطابق چین اب دنیا بھر میں نئی ادویات کا تقریباً 30 فیصد حصہ رکھتا ہے جو عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں