بیجنگ (شِنہوا) چین کے ریاستی ادارہ برائے زرمبادلہ (سیف) نے کہا ہے کہ صنعتی ترقی، تکنیکی جدت، مسلسل وسعت کی پالیسی اور معیشت کی مضبوطی کے باعث چین میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی رفتار برقرار رہنے کی توقع ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے 5 ماہ کے دوران چین میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی مختلف اقسام کی سرمایہ کاری میں تقریباً 160 ارب امریکی ڈالر کا خالص اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر ہے۔
اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ چین میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا رجحان بتدریج زیادہ قدر افزا اور جدت پر مبنی شعبوں کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ رواں سال کی پہلی ششماہی میں چین کے ہائی ٹیک خدمات اور ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کی آمد سالانہ بنیاد پر 61 فیصد بڑھی جو مجموعی سرمایہ آمد کا 36 فیصد رہی۔ یہ شرح گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 11 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔
سیف کے ترجمان ژاؤ یوچھاؤ نے کہا کہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ برسوں میں چین میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا رجحان ’’میڈ ان چائنہ‘‘ کی لاگت اور پیداواری حجم سے فائدہ اٹھانے سے آگے بڑھ کر ’’کریئیٹڈ ان چائنہ‘‘ کی ترقی میں شراکت داری کی جانب منتقل ہو گیا ہے۔
ژاؤ نے کہا کہ چین کی جاری صنعتی تبدیلی اور تکنیکی اختراعات میں پیش رفت نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کر رہی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو طویل مدتی ترقی کے لیے زیادہ مستحکم اور پرکشش ماحول فراہم کر رہی ہے۔
ژاؤ کے مطابق ملک میں ادارہ جاتی سطح پر وسعت کے فروغ، غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے بہتر خدمات، معاونت اور مالیاتی روابط میں بہتری سے بھی بیرون ملک سرمایہ کاری کے لئے مزید سازگار حالات پیدا ہوں گے۔


