ہومتازہ ترینچین میں ہائی فریکوئنسی ڈیٹا سے سال کی پہلی ششماہی کے دوران...

چین میں ہائی فریکوئنسی ڈیٹا سے سال کی پہلی ششماہی کے دوران معیشت میں مسلسل بہتری کی نشاندہی

بیجنگ (شِنہوا) چین میں رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران مسلسل بہتری کا رجحان برقرار رکھا، جہاں کھپت میں بحالی کا سلسلہ جاری رہا اور ہائی ٹیک صنعتوں نے مزید رفتار حاصل کی۔

چین کے اعلیٰ اقتصادی منصوبہ ساز ادارے قومی ترقی و اصلاحاتی کمیشن (این ڈی آر سی)کے ماتحت ریاستی اطلاعاتی مرکز (ایس آئی سی )کی جانب سے جاری ہونےوالے اعداد و شمار کے مطابق سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران صارفین کی سرگرمیوں میں مسلسل بحالی دیکھنے میں آئی۔ آف لائن خریداری کی ادائیگیوں کی نگرانی کرنے والے اشاریے میں گزشتہ سال کی نسبت 2.7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ روایتی تجارتی مراکز میں آنے والے خریداروں کی تعداد 5.7 فیصد بڑھ گئی۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس عرصے میں الیکٹرانک مصنوعات پر صارفین کے اخراجات میں 9.5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ثقافتی اور سیاحتی سرگرمیوں سے متعلق نقل و حمل اور کیٹرنگ پر اخراجات بالترتیب 6.1 فیصد اور 4.9 فیصد بڑھ گئے۔

ریاستی اطلاعاتی مرکز کے محقق شنگ یوگوآن نے اس بحالی کو اندرونی طلب اور کھپت کے فروغ کے لئے متعارف کرائے گئے پالیسی پیکیج کے ساتھ ساتھ طلب و رسد کی بہتر ہوتی صورتحال کا نتیجہ قرار دیا، جس نے ثقافتی، سیاحتی اور سمارٹ کھپت کے شعبوں میں مضبوط ترقی کی حمایت کی۔

اعداد و شمار نے ہائی ٹیک شعبوں میں بھی ترقی کی رفتار میں نمایاں اضافےکو اجاگر کیا۔ پہلی ششماہی کے دوران مصنوعی ذہانت اورانسان نما روبوٹس جیسے جدید شعبوں میں سرمایہ کاری گزشتہ سال کی نسبت118.4 فیصد بڑھ گئی، جبکہ کمپیوٹنگ پاور سمیت ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے کامیاب ٹھیکوں کی مالیت میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

صنعتی سرگرمیاں اور اختراعی صلاحیت بھی مضبوط رہی۔ صنعتی پارکوں کی پیداواری سرگرمیوں کا اشاریہ گزشتہ سال کی نسبت 3.9 فیصد بڑھا، جبکہ اسٹریٹجک ابھرتی ہوئی صنعتوں سے متعلق منظور شدہ پیٹنٹس کی تعداد میں 15.6 فیصد اضافہ ہوا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں