کابل (لارڈ میڈیا): افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں معدنی وسائل پر قبضے کی جنگ میں شدت آ گئی ہے۔ طالبان حکومت اور مقامی کمانڈر جمعہ خان فتح کے درمیان معدنیات کی تقسیم پر شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں لڑائی جاری ہے۔ طالبان امیر ملا ہیبت اللہ نے جمعہ خان فتح کو باغی قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم دیا ہے۔ طالبان اسپیشل فورسز کے دستے ان کی گرفتاری کے لئے بدخشاں میں موجود ہیں۔
افغان میڈیا کے مطابق صوبے بدخشان میں مسلسل فضائی نگرانی جاری ہے، اور ڈرون پروازوں کے ساتھ ہیلی کاپٹر گشت بھی جاری ہے۔ جمعہ خان کی گرفتاری کے لئے 50 عسکری گاڑیوں پر مشتمل طالبان کا بھاری دستہ بھی سرگرم ہے۔
طالبان کے منحرف کمانڈر جمعہ خان فتح نے کسی صورت سرینڈر نہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ افغان میڈیا کے مطابق، صوبہ بدخشان کے ضلع درویز جمعہ خان فتح کے کنٹرول میں ہے۔


