کراچی (لارڈ میڈیا): سانحہ گل پلازہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں واقعے کو حادثہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آگ فرانزک رپورٹ میں حادثاتی ثابت ہوئی، تاہم دکاندار نعمت اللہ اور ان کے 11 سالہ بیٹے حذیفہ کو غفلت کا مرتکب پایا گیا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں گل پلازہ کمیٹی کے صدر تنویر پاستا، نائب صدر عمار اسماعیل، جنرل سیکریٹری محمد امین، اور جوائنٹ سیکریٹری محمد رمضان کو بھی ملزم قرار دیا گیا ہے جبکہ تمام ملزمان کو مفرور قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گل پلازہ آتشزدگی میں 72 افراد جاں بحق ہوئے، اور پنجاب فرانزک لیب کی رپورٹ نے دھماکا خیز مواد کی عدم موجودگی کی تصدیق کی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ آگ دکان نمبر 193 سے شروع ہوئی، جہاں حذیفہ نے ماچس کی تیلیاں جلا کر پھینکیں۔ مارکیٹ یونین کی غفلت کی وجہ سے لوگوں کو باہر نکلنے میں مشکلات ہوئیں، جبکہ یونین صدر نے بجلی بند کروا دی، جس سے اندھیرا چھا گیا۔


