ہومتازہ ترینعالمی ادارہ صحت کے عہدیدار کی جسمانی سرگرمی کے فروغ کے لئے...

عالمی ادارہ صحت کے عہدیدار کی جسمانی سرگرمی کے فروغ کے لئے چینی کوششوں کی ستائش

بیجنگ (شِنہوا) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے چین میں نمائندے مارٹن ٹیلر نے کہا ہے کہ چین نے جسمانی سرگرمی کو فروغ دینے کے لئے ایسے اقدامات کئے ہیں جو بین الاقوامی سطح، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لئے قابل تقلید ہیں۔

مارٹن ٹیلر نے چین کی اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک نے ایسا ماحول بنایا ہے جس میں ورزش تک رسائی زیادہ آسان ہو گئی ہے۔

ٹیلر نے چائنہ انسٹی ٹیوٹ آف اسپورٹ سائنس کے ساتھ مفاہمتی دستاویز پر دستخط کرنے کے بعد کہا کہ "چین ایک بہت مضبوط بنیاد کے ساتھ انتہائی بہتر پوزیشن میں ہے۔” انہوں نے قومی پالیسی اقدامات سے لے کر عوامی مقامات کی ترقی اور کمیونٹی سطح پر کھیل اور صحت کی خدمات کے انضمام تک کی کوششوں کا حوالہ دیا۔

ٹیلر کے مطابق جسمانی سرگرمی کی کمی دنیا بھر میں عوامی صحت کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 31 فیصد بالغ افراد (تقریباً 1.8 ارب لوگ) تجویز کردہ سطح کے مطابق جسمانی سرگرمی نہیں کرتے جبکہ نوجوانوں میں یہ شرح 80 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔

ہر سال غیر متعدی بیماریوں کی وجہ سے تقریباً 8 لاکھ 30 ہزار اموات جسمانی سرگرمی کی کمی سے منسلک ہوتی ہیں۔

ٹیلر نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک کی قیادت صحت اور کھیل کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ 15ویں پانچ سالہ منصوبہ برائے قومی اقتصادی و سماجی ترقی میں انسانوں اور صحت کو مرکزیت دی گئی ہے اور کھیل کو اس کا اہم حصہ تسلیم کیا گیا ہے۔

انہوں نے عوامی مقامات پر چین کی سرمایہ کاری کو بھی سراہا۔

انہوں نے کہا کہ آج چین کے کئی شہروں اور قصبوں میں آپ پارک دیکھتے ہیں جہاں دوڑنے کے لئے جگہیں ہیں، دریا اور نہروں کے کنارے چلنے اور دوڑنے کے راستے، بیرونی جم جہاں لوگ ورزش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کھلی جگہوں، پارکس اور دریا کے کنارے راستوں میں سرمایہ کاری لوگوں کو ورزش کرنے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے بیجنگ کے اولمپک فاریسٹ پارک کی مثال دی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی جگہ ہے جو ہر ہفتے کے آخر میں لوگوں سے بھری ہوتی ہے، جہاں لوگ نہ صرف چہل قدمی اور دوڑ لگاتے ہیں بلکہ چٹانوں پر بھی چڑھتے ہیں۔

انہوں نے چین کے شہروں میں مشترکہ سائیکلوں کی وسیع دستیابی کو بھی سراہا اور کہا کہ اس نے لاکھوں لوگوں کے لئے سائیکل چلانے کو ایک آسان ورزش بنا دیا ہے۔

ٹیلر نے کہا کہ آج بہت سے لوگ مشترکہ سائیکل کے ذریعے کام پر جاتے ہیں، 20 سال پہلے یہ ممکن نہیں تھا۔

انہوں نے کمیونٹی سطح پر کھیلوں اور صحت کی خدمات کو یکجا کرنے کی کوششوں کو بھی سراہا۔

انہوں نے کہا کہ ہم مثال کے طور پر معاشرے کی سطح پر کھیل اور صحت کے امتزاج کو دیکھتے ہیں، جہاں صحت کی سہولیات اور کھیلوں کےمراکز کو ملا کر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ ڈاکٹروں سے اپنی صحت کے بارے میں رہنمائی حاصل کریں اور پھر کھیلوں یا جسمانی سرگرمیوں کی طرف جائیں تاکہ اپنی حالت کے مطابق ضروری ورزش کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات بہت شاندار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ کے پاس سوشل میڈیا کے لئے 20 یا 30 منٹ ہیں، تو آپ کے پاس ورزش کے لئے بھی اتنا ہی وقت ہو سکتا ہے۔ کھیل نہ صرف صحت مند ہے بلکہ خوشگوار بھی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں