بریسٹ، بیلاروس (شِنہوا) بریسٹ ریجنل ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین پیٹر پارخومچک نے کہا ہے کہ بیلاروس اور چین کے درمیان متعدد کامیاب مشترکہ منصوبوں کی بدولت دونوں ممالک کے پاس مزید تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
شِنہوا کے ساتھ ایک انٹرویو میں پارخومچک نے کہا کہ بیلاروس کے مختلف صنعتی اداروں میں چینی ٹیکنالوجی اور مشینری کے وسیع استعمال نے مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات کی مسابقتی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
بریسٹ کی سٹریٹجک اہمیت کو ایک لاجسٹک گیٹ وے کے طور پر اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بریسٹ چینی شراکت داروں کو لاجسٹک مراکز قائم کرنے کی خاطر پلیٹ فارم فراہم کرنے کو تیار ہے تاکہ چین، بریسٹ اور بیلاروس کے دیگر علاقوں میں تیار کی جانے والی مصنوعات کو موثر طریقے سے یورپی منڈیوں تک برآمد کیا جا سکے۔
صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "چینی طبی ماہرین پہلے ہی بریسٹ کے ہسپتالوں میں کام کر رہے ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ بریسٹ اسٹیٹ اے ایس۔ پشکن یونیورسٹی میں قائم کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ چینی زبان اور ثقافت کی منظم تعلیم فراہم کر رہا ہے جبکہ اس کے کورسز کی طلب غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ "بیلاروس کے نوجوان چینی زبان اور ثقافت سیکھنے کے لئے بے حد پرجوش ہیں۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ "مجھے یقین ہے کہ بیلاروس اور چین کے تعلقات کا مستقبل روشن ہے۔”
پارخومچک، جو چین کے متعدد دورے کر چکے، نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ملک کی تیز رفتار ترقی کے لئے گہری ستائش کا اظہار بھی کیا۔


