اسلام آباد (لارڈ میڈیا): وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان کا ہیلتھ کیئر سسٹم مزید بیمار پیدا کرتا ہے۔ جڑی بوٹیوں اور روایتی ادویات پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہربل ادویات وقت کی ضرورت ہیں، لیکن ان کے لیے قانون اور ریگولیشن درکار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہربل پر قانون سازی وزارت صحت سے وزارت قانون کو بھجوا دی گئی ہے اور چند ہفتوں میں ڈریپ کے پاس ریگولیشنز ہوں گی۔
وفاقی وزیر نے وضاحت کی کہ یہ کانفرنس ویسٹرن میڈیسن کے خلاف نہیں ہے بلکہ ہر شعبے کی اپنی اہمیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویسٹرن میڈیسن ایک وقت کے بعد جسم پر اثر کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ پاکستان میں ایک بیمار آدمی کو تندرست ہونے میں 8 دن لگتے ہیں جبکہ دنیا میں یہ عمل صرف 3 دن میں مکمل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اسپتال بناتے ہیں لیکن مریضوں کا انتظار نہیں کرتے، اسپتال پہلے ہی دن بھر جاتا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں ہیلتھ کیئر سسٹم مزید بیمار پیدا کرتا ہے اور جیسا کہ بیماریاں بڑھ رہی ہیں، ہر گلی میں اسپتال بنانے کے باوجود بھی یہ کم ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 85 فیصد ادویات پاکستان میں بن رہی ہیں جبکہ خام مال باہر سے آتا ہے۔


