بیجنگ (شِنہوا) چین نے نام نہاد امریکی ٹیرف رعایتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے پر تائیوان کی ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) کی قیادت پر شدید تنقید کی ہے اور ان دعوؤں کو "خود فریبی” اور "مضحکہ خیز” قرار دیا ہے۔
چین کی ریاستی کونسل کے تائیوان امور دفتر کی ترجمان ژو فینگ لیان نے یہ ریمارکس ایک پریس کانفرنس میں ایک صحافی کے سوال کے جواب میں دیئے، جس میں امریکہ کے حالیہ اعلان کا حوالہ دیا گیا تھا کہ تائیوان کے لئے سیمی کنڈکٹرز کے علاوہ بعض اشیاء پر ٹیرف میں رعایتیں یکم مئی سے نافذ ہو چکی ہیں اور تائیوانی حکام کے مطابق یہ اقدام متعلقہ صنعتوں کی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ کرے گا۔
ژو فینگ لیان نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈی پی پی حکومت نے "امریکہ کے سامنے جھکنے” کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور اس کے نتیجے میں تائیوان کی بنیادی صنعتوں، ترقی کے امکانات اور عوام کے مفادات و فلاح کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
ژو فینگ لیان نے کہا کہ ڈی پی پی حکام نے محض علامتی نوعیت کی ٹیرف رعایتوں کے بدلے امریکہ کو بھاری مراعات دینے کی پیشکش کی ہے جن میں امریکہ میں 500 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ اور امریکہ سے درآمد ہونے والی 4 ہزار 885 صنعتی اور ایک ہزار 482 زرعی مصنوعات پر زیرو ٹیرف عائد کرنا شامل ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ڈی پی پی حکام شرمندہ ہونے کے بجائے بے باکی سے کریڈٹ لینے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات نہ تو تائیوان کے صنعتی شعبے کو گمراہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی عوام کو، بلکہ یہ الٹا اثر ڈالیں گے اور ڈی پی پی کو اپنے ہی کئے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔


