ہومتازہ تریننشہ جرم کا دفاع نہیں، سپریم کورٹ نے قتل کے مجرم کی...

نشہ جرم کا دفاع نہیں، سپریم کورٹ نے قتل کے مجرم کی اپیل خارج کر دی

اسلام آباد (لارڈ میڈیا): سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم سنی مسیح کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ نشے کی حالت میں جرم کا ارتکاب کرنے والا استثنیٰ کا حقدار نہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ بذات خود نشہ کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق نہیں۔ ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی دی گئی سزائے موت کو برقرار رکھا گیا۔

جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے تحریری فیصلہ دیا، جبکہ بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔ مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو استثنیٰ کی بنیاد بنایا تھا۔

عدالت نے واضح کیا کہ رضاکارانہ نشے کو جرم کے دفاع میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ قانون کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ جرم سے استثنیٰ صرف زبردستی یا لاعلمی میں نشہ کرنے پر ممکن ہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ مجرم نے معصوم بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جو کسی رعایت کا متقاضی نہیں، اس لیے اپیل خارج کی جاتی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں