سینیٹ نے اقبال اکیڈمی ترمیمی بل 2026ء کثرت رائے سے منظور کرلیا جبکہ لیگی رہنماء عابد شیر علی اور جے یو آئی اراکین کے درمیان تلخ کلامی کے بعد اجلاس 11مئی تک ملتوی کردیا گیا۔
جمعہ کو سینیٹ اجلاس چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیر صدرات منعقد ہواجس میں 9 قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس اور مختلف بلز پیش کیے گئے۔
سینیٹ نے اقبال اکیڈمی ترمیمی بل 2026ء کثرت رائے سے منظور کرلیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر مولانا عطا الرحمن نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ایک عالم دین مولانا محمد ادریس کو بے دردی سے قتل کیا گیا، قاتل اتنے ایکسپرٹ تھے کہ شہادت صرف مولانا کے حصے میں آئی تاہم دیگر لوگ صرف زخمی ہوئے، ہر ہفتے ہمارے ہاں کوئی ناکوئی دلخراش واقعہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے مولانا ادریس کی شہادت پر احتجاج کا اعلان کیا تو انتظامیہ نے روکا، ہم نے کہا آپ ہمیں مارتے بھی ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے، پی ٹی آئی سے بھی گلہ ہے کہ 13سال سے صوبے میں ان کی حکومت ہے، ہم اس صوبے میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح مرکزی حکومت نااہل ہے اسی طرح پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت بھی حق حکمرانی کھو چکی ہے، ملک و قوم پر رحم کریں، ہم مزید یہ سہنے کو تیار نہیں۔
عابد شیر علی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک دور تھا جب دیگر ممالک کے سربراہان ہمارے وزیراعظم کا فون نہیں اٹھاتے تھے اور آج امریکی نائب صدر پاکستان آرہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں ہماری مسلح افواج نے بھارت کو جو سبق سکھایا ان کی سات نسلیں یاد رکھیں گی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اور افغانستان کی طرف سے ہماری مسلح افواج پر حملے کئے جاتے ہیں، مولانا عطا الرحمن کو افغانستان سے ہونیوالے حملوں کی مذمت کرنی چاہئے۔
اس بیان عابد شیرعلی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی جس پر چیئرمین سینیٹ نے اجلاس 11 مئی تک ملتوی کردیا۔


