وزیراعظم شہباز شریف نے آزادیِ صحافت کے تحفظ، فروغ و سازگار ماحول کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا نہ صرف معاشرتی، سیاسی و معاشی تنوع کا عکاس بلکہ قومی یکجہتی و استحکام کے فروغ کا بھی باعث ہے، جعلی خبروں، منظم گمراہ کن مہمات کا پھیلائو قومی ہم آہنگی و عالمی ساکھ کیلئے حقیقی خطرہ ہے، پروپیگنڈہ، فیک نیوز، غیر مستند اور غیر تصدیق شدہ خبروں کی ترسیل کو پیشہ ورانہ اقدار کے تحت روکنا ہر صحافی کا فرض ہے، معرکہ حق میں صحافی برادری کا کردار لائق تحسین رہا۔
ہفتہ کو عالمی یومِ آزادیِ صحافت پر جاری بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ عالمی یومِ آزادیِ صحافت پر پاکستان اور دنیا بھر کے صحافیوں، کالم نویسوں، رپورٹرز، مدیران، براڈکاسٹنگ اورصحافت سے وابستہ تمام افراد کو ان کی بے لوث خدمات پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ صحافت سے وابستہ افراد کی پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی ایک باخبر اور با شعور معاشرے کی ضمانت ہے، مستند اور تعصب سے پاک غیر جانبدارانہ خبروں کی بروقت اشاعت و نشریات ہی اصل صحافت کی اساس ہے۔
انہوں نے کہا کہ پروپیگنڈہ، فیک نیوز، غیر مستند اور غیر تصدیق شدہ خبروں کی ترسیل کو پیشہ ورانہ اقدار کے تحت روکنا ہر صحافی کا فرض ہے، صحافی نہ صرف پیشہ ورانہ بلکہ سماجی اقدار کے بھی امین ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال عالمی یومِ آزادیِ صحافت پرامن مستقبل کی تشکیل کے عنوان کے تحت منایا جارہا ہے،یہ موضوع دور حاضر کی ضروریات کی عکاسی کرتا ہے، صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی میں ایک باوقار، باحفاظت اور سازگار ماحول کے حقدار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں امن و امان کا ماحول محض سفارت کاری سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ مستند معلومات، ذمہ دارانہ صحافت اور عوامی رائے اسکی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات، ممالک کے مابین سفارتی، معاشی، معاشرتی باہمی تعلق کو مثبت، بامعنی اور موثر بنانے میں میڈیا تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بیشتر اوقات نکتہ نظر کی صحیح ترجمانی بہت سے پیچیدہ مسائل حل کر دیتی ہے، یہی ذمہ دارانہ صحافت کا طرہ امتیاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پر امن ملک ہے اور اختلاف رائے سے لے کر کشیدگی کے دیر پا حل تک مکالمے اور مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے، موجودہ حالات میں سفارتی میدان میں پاکستان، کشیدگی میں کمی، مکالمے کے فروغ اور خطے میں امن کی بحالی کیلئے مثبت کردار ادا کر رہا ہے ،اس تناظر میں عالمی سطح پر میڈیا نے پاکستان کی تحسین کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سفارتی محاذ اور زمانہ امن کے علاوہ قومی میڈیا نے معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص کے دوران بھی ایک اہم ذمہ داری ادا کی، مربوط قومی ردعمل اور خودمختاری کے دفاع میں قومی یکجہتی اور پاکستان کے موقف کو وضاحت اور تحمل کے ساتھ پیش کیا، میڈیا نے عوام کو آگاہ رکھا اور غلط معلومات کا تدارک کیا۔معرکہ حق کے لمحات مسلح افواج کی صلاحیتوں کیساتھ ساتھ مشترکہ قومی طاقت کا مظہر تھے جس میں ذمہ دار میڈیا بخوبی شامل تھا اور تمام صحافی برادری کا کردار لائق تحسین تھا۔
انہوں نے کہا کہ آج ہم ان صحافیوں کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان کی جرات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آزادی صحافت ایک بیش قدر اثاثہ ہے، میڈیا کا منظرنامہ بڑی تیزی سے جدت کو اپناتے ہوئے تبدیل ہو رہا ہے، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، ملکی و عالمی رائے عامہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، ایسی صورتحال میں قومی تشخص اور نکتہ نظر کو عالمی سطح پر موثر انداز میں اجاگر کرنے میں میڈیا کا اہم کردار ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا اداروں کو ڈیجیٹل میدان میں جدت سے خود کو ہم آہنگ کرنے میں رفتاراور احساس ذمہ داری دونوں درکار ہیں،جعلی خبروں اور منظم گمراہ کن مہمات کا پھیلائو قومی ہم آہنگی اور عالمی ساکھ کیلئے ایک حقیقی خطرہ ہے، خبروں تک جلد رسائی اور ساکھ دونوں کو مقدم رکھنا ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نے صحافتی برادری سے اپیل کی کہ وہ تصدیق، دیانت اور پیشہ ورانہ معیار کی اعلی ترین اقدار کو برقرار رکھے تاکہ میڈیا کے برق رفتار ڈیجیٹل دور میں بھی مسابقت سچائی کی قیمت پر نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا نہ صرف ہماری معاشرتی، سیاسی اور معاشی تنوع کا عکاس ہے بلکہ قومی یکجہتی و استحکام کے فروغ کا بھی باعث ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کرتا ہوں کہ آزادیِ صحافت کے تحفظ کیساتھ اس کے فروغ اور سازگار ماحول کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے، آئیے مشترکہ تجدید عزم کریں کہ صحافتی آزادی کے تحفظ میں حکومت اپنا کردار ادا کرتی رہے گی تاکہ سازگار ماحول میں میڈیا سچائی کیساتھ اپنی ذمہ داری نبھاتا رہے اور مل کر ہم ایک مضبوط پاکستان کی تعمیر کیلئے محو عمل رہیں جو پر امن، پراعتماد اور عالمی سطح پر باوقار مقام رکھتا ہو۔


