بیجنگ (شِنہوا) چین میں ترسیل کے شعبے نے 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران اپنی مستحکم رفتار برقرار رکھی اور اہم اشاریوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
چائنہ فیڈریشن آف لاجسٹکس اینڈ پرچیزنگ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے مارچ تک چین کی مجموعی سماجی لاجسٹکس کی مالیت 964 کھرب یوآن (تقریباً 140 کھرب امریکی ڈالر) رہی جو تقابلی قیمتوں کی بنیاد پر گزشتہ سال کی نسبت 6.2 فیصد زائد ہے۔ فیڈریشن نے مزید بتایا کہ شرح نمو 2025 کی مجموعی سطح سے 1.1 فیصد پوائنٹس اور 2025 کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 0.5 فیصد پوائنٹس زیادہ رہی۔
لاجسٹکس کی ترقی میں سب سے بڑا حصہ صنعتی شعبے کا رہا۔ صنعتی سامان کی لاجسٹکس کی مالیت میں سالانہ 5.8 فیصد اضافہ ہوا جس نے اس عرصے کے دوران مجموعی سماجی لاجسٹکس کی مالیت میں ہونے والے اضافے میں 80 فیصد سے زائد حصہ ڈالا۔ اس شعبے کے اندر مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس کی طلب کے 80 فیصد سے زیادہ رہی۔
اعداد و شمار سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ 2026 کے پہلے 3 ماہ میں عوامی معیشت اور ذریعہ معاش سے متعلق لاجسٹکس میں بھی مستحکم اضافہ ہوا کیونکہ کھپت کے ابھرتے ہوئے نئے رجحانات نے اس شعبے کو نئی توانائی بخشی۔ اس عرصے کے دوران چین کی آن لائن پرچون فروخت میں گزشتہ سال کی نسبت 7.5 فیصد اضافہ ہوا جو اشیائے صرف کی مجموعی پرچون فروخت کا 24.8 فیصد ہے۔
چائنہ لاجسٹکس انفارمیشن سنٹر کے ڈائریکٹر لیو یوہانگ نے کہا کہ بہار کے موسم میں خریداری کی بحالی اور اخراجات کو بڑھانے کی پالیسیوں کی بدولت صارفین سے متعلق لاجسٹکس کی طلب میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور اس شعبے کی لچک مزید مضبوط ہو رہی ہے۔
مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے لیو نے کہا کہ اب تمام تر توجہ شہری اور دیہی ترسیل کے نیٹ ورکس کو بہتر بنانے اور سپلائی چین کے جدید نظام کی ترقی کو تیز کرنے پر مرکوز رہے گی۔
لیو نے ٹرانسپورٹ اور تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر کڑی نظر رکھنے اور لاجسٹکس کے شعبے کو ڈیجیٹل، ذہین اور ماحول دوست بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔


