پاور ڈویژن نے کہا ہے کہ عالمی حالات کے باعث ایل این جی کی عدم دستیابی سے 5000میگاواٹ کے پاور پلانٹس سے بجلی پیدا نہیں ہو رہی، تربیلا ڈیم سے پانی کے اخراج میں کل رات کے وقت اضافے سے پن بجلی پیداوار میں اضافہ ہوا، کل رات پیک ٹائم میں کل پن بجلی کی پیداوار 6000میگاواٹ رہی جبکہ ملک کی پن بجلی کی کل استعداد 11500میگاواٹ ہے۔
ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق پن بجلی کی پیداوار میں اضافے سے ملک کے جنوب سے نیشنل گرڈ میں استحکام کی بدولت مزید کچھ پاور پلانٹس کو مقامی گیس کی فراہمی سے بجلی پیداوار میں مزید بہتری آئی ہے، 100میگاواٹ سنٹر لانے میں آسانی ہوئی، جنوب سے کل 500میگاواٹ کی ترسیل ممکن ہوئی۔
ترجمان کے مطابق کل رات بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے پیک آورز میں ایک سے دو گھنٹے تک لوڈمینجمنٹ کی، پن بجلی کی پیداوار میں اضافے کی بدولت بجلی کی زیادہ ڈیمانڈ کے باوجود لوڈمینجمنٹ دو گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوئی۔
پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ ملک میں زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر اکنامک لوڈمینجمنٹ پالیسی کے تحت کی جارہی ہے، اکنامک لوڈمینجمنٹ کا پیک اورز میں لوڈمینجمنٹ سے کوئی تعلق نہیں، ایل این جی کی دستیابی اور پانی کے اخراج میں اضافے سے رات کے اوقات کا شارٹ فال ختم ہوجائیگا۔


