روس کے دارالحکومت ماسکو میں 48واں ماسکو عالمی فلمی میلہ شروع ہو گیا ہے جس میں 40 سے زائد ممالک اور خطوں سے تقریباً 200 فلمیں پیش کی جا رہی ہیں۔
مرکزی مقابلے میں چین، روس، اسپین، جنوبی کوریا، ارجنٹائن، میکسیکو، ایران، منگولیا اور بھارت سمیت مختلف ممالک کی 13 فلمیں شامل ہیں۔
ان فلموں میں پہلی چینی فیچر فلم "دی لاسٹ سمر” بھی شامل ہے جس کےہدایت کار شی رن فے ہیں۔ یہ فلم مرکزی مقابلے میں حصہ لے رہی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): ژانگ شو، پروڈیوسر، فلم "دی لاسٹ سمر”
"ہر فلم کا یہ خواب ہوتا ہے کہ اسے کسی فلمی میلے خاص طور پر ماسکو جیسے تاریخی فلمی میلے میں پذیرائی ملے۔”
ساؤنڈ بائٹ 2 (روسی): ولادیمیر موروشان، اداکار
"کیمرے کی حرکات بہت دلچسپ تھیں۔ ایڈیٹنگ میں تیزی ہے مگر انداز اچھا ہے جس سے دیکھنے والا خود کو بھی منظر کا حصہ محسوس کرتا ہے۔ یہ بہت شاندار اور واقعی بے حد متاثر کن ہے۔”
ساؤنڈ بائٹ 3 (روسی): الینا لارینا، طالبہ
"اس فلم نے مجھے سب سے پہلے اپنی بصری خوبصورتی اور اداکاروں کی وجہ سے اپنی طرف متوجہ کیا۔ میرے خیال میں اس میں شاندار اداکاری کی گئی ہے، خاص طور پر بچوں نے اچھی کارکردگی دکھائی۔”
میڈیا کے لئے خصوصی نمائش کے دوران صحافیوں نے فلم کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے اس کی اداکاری اور فلمی انداز کو خاص طور پر سراہا۔
نمائش کے علاوہ یہ میلہ تبادلے کا ایک عالمی پلیٹ فارم بن رہا ہے جہاں فلم ساز باہمی تعاون کے نئے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): جن شا، چینی اداکارہ اور جیوری رکن
"میں امید کرتی ہوں کہ مستقبل میں چین اور روس کے درمیان فلمی تعاون مزید فعال ہوگا۔ اگر ہر سال دونوں ممالک کے اداکاروں کے ساتھ کئی مشترکہ فلمیں بنا کر ریلیز کی جائیں تو وہ بہت دلچسپ ہوں گی۔”
ماسکو سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
ماسکو میں 48 واں عالمی فلمی میلہ شروع ہو گیا
40 سے زائد ممالک کی تقریباً 200 فلمیں نمائش کے لئے پیش کی گئیں
چینی فلم "دی لاسٹ سمر” نے شرکا کی خوب پذیرائی حاصل کی
فلم خوبصورت، مؤثر اور پیشہ ورانہ انداز میں شوٹ کی گئی ہے
شرکا نے اداکاروں کی پرفارمنس کو بے حد سراہا
بچوں کی اداکاری خاص طور پر ناظرین کی دلچسپی کا باعث بنی
میلہ تبادلے کا عالمی پلیٹ فارم بن رہا ہے
چین اور روس میں مشترکہ فلم سازی کے امکانات روشن ہو گئے


