ہومپاکستانسہیل آفریدی کی ضم اضلاع میں تین سمال انڈسٹریل سٹیٹس قائم، دفاتر...

سہیل آفریدی کی ضم اضلاع میں تین سمال انڈسٹریل سٹیٹس قائم، دفاتر شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی ہدایت

وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ضم اضلاع میں تین سمال انڈسٹریل سٹیٹس قائم، سرکاری دفاتر شمسی توانائی پر منتقل، نوجوانوں کو جدید سکلز و ٹریننگ فراہم، ہنر مند نوجوانوں کی مالی معاونت و آسان کاروباری یونٹس کے قیام کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ نوجوانوں و غریب و متوسط طبقے کا ہوگا، ایسے اقدامات متعارف کرا رہے ہیں جن سے روزگار کے مواقع پیدا، کم آمدنی والے افراد کو مالی سہولتیں فراہم ہوسکیں۔

بدھ کو وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت محکمہ پلاننگ و ڈویلپمنٹ کا اجلاس ہوا جس میں محکمہ ایکسائز، بلدیات، کلائمیٹ چینج، خوراک، ہائوسنگ، داخلہ، زراعت، لائیو سٹاک اور توانائی کے نئے ترقیاتی منصوبوں پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں اگلے ترقیاتی پروگرام کیلئے اہم منصوبوں میں کوہاٹ، مردان، پشاور اور ضم اضلاع کو سیف سٹیز بنانے ،ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں غلہ ذخیرہ کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے حامل گوداموں، جیلوں کو محفوظ بنانے، تھانوں کی مضبوطی، سپیشل برانچ کو جدید آلات، سی ٹی ڈی ڈسٹرکٹ سیٹ اپ کے قیام، مختلف اضلاع میں 8 ایکسائز تھانوں کے قیام کیلئے زمین خریداری سکیم، ضم اضلاع میں منی سولر گرڈ، تیراہ میں مائیکرو ہائیڈرو پاور سٹیشنوں کی بحالی اور نئے فیڈرز کیلئے سکیمیں بنانے کی تجاویز دی گئیں۔

اجلاس میں 22 میگا واٹ پاتراک شرینگل ہائیڈرو پاور سٹیشن کے قیام کا منصوبہ بھی شامل کرنے پر غور کیا گیا۔

اس موقع پر وزیراعلی نے پشاور سے غلہ گودام کی منتقلی کیلئے متبادل جدید گودام قائم، ضم اضلاع کے تمام سرکاری دفاتر شمسی توانائی پر منتقل اورتین سمال انڈسٹریل سٹیٹس قائم کرنے، نوجوانوں کو جدید سکلز اور ٹریننگ فراہم، ای کامرس کے فروغ کیلئے ترقیاتی سکیم تجویز کرنے، ہنر مند نوجوانوں کیلئے مالی معاونت و آسان کاروباری یونٹس کے قیام کی ہدایت کی۔

سہیل آفریدی نے جنگلات کے رقبے میں اضافے کیلئے تین سالہ پلان طلب کرتے ہوئے رقبے میں اضافے کیلئے خصوصی سکیم ،جانوروں کی بیماریوں کی رئیل ٹائم سرویلنس، بائیو گیس منصوبوں و باغبانی کیلئے بلاسود قرضوں کی سکیم تجویز کرنے اور اینیمل رائٹس پالیسی جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعلی نے ضم اضلاع میں گھروں کی سولرائزیشن منصوبے کو فاسٹ ٹریک پر ڈالنے، منی مائیکرو ہائیڈرو پاور کے ممکنہ منصوبوں کا جائزہ لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سال 2026-27ء کا بجٹ نوجوانوں اور غریب و متوسط طبقے کا بجٹ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے اقدامات متعارف کرا رہی ہے جن سے نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ کم آمدنی والے افراد کو مالی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں تعلیم، صحت اور فنی تربیت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر انہیں خود کفیل بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت مہنگائی سے متاثرہ طبقے کو ریلیف فراہمی کیلئے مختلف سکیمیں متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے صوبے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں