واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ "ایران کا تیل حاصل کرنا چاہتے ہیں” اور تیل کی برآمد کے اہم مرکز خارگ جزیرے پر قبضہ بھی کر سکتے ہیں۔
فنانشل ٹائمز کو ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ "سچ کہوں تو میری پسندیدہ چیز ایران کا تیل حاصل کرنا ہے۔” انہوں نے اس کا موازنہ وینزویلا سے کیا جہاں واشنگٹن صدر نکولس مادورو کو جنوری میں زبردستی تحویل میں لینے کے بعد تیل کی صنعت کو "غیر معینہ مدت” تک کنٹرول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
فنانشل ٹائمز نے بتایا کہ ایرانی تیل پر قبضہ کرنے کا مطلب خارگ جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنا ہوگا، جہاں سے ایران کے 90 فیصد سے زائد تیل کی برآمدات ہوتی ہیں، ساتھ ہی خبردار کیا کہ ایسا "حملہ” جانی نقصان میں اضافے اور جنگ کے طول پکڑنے کا باعث بن سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ "شاید ہم خارگ جزیرہ لے لیں، شاید نہ لیں۔ ہمارے پاس بہت سے آپشنز ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "اس کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ ہمیں کچھ عرصہ وہاں رہنا پڑے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں ایران کے پاس اس جزیرے پر دفاع نہ ہونے کے برابر ہے۔ "ہم اسے بہت آسانی سے لے سکتے ہیں۔”
ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے اور ایران سے تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ یورینیم حاصل کرنے کے لیے ممکنہ فوجی کارروائی پر غور کر رہا ہے۔
وال سٹریٹ جرنل نے بتایا کہ انہوں نے اپنے مشیروں کو یہ بھی کہا ہے کہ ایران پر دباؤ ڈالا جائے کہ جنگ کے خاتمے کے لئے ایک شرط کے طور پر وہ یہ مواد حوالے کرے۔
بتایا گیا ہے کہ پینٹاگون خطے میں مزید 10 ہزار تک زمینی فوجی تعینات کر رہا ہے، جبکہ امریکی سنٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ 3 ہزار 500 سے زائد فوجی، جن میں 2 ہزار 500 میرینز شامل ہیں، پہلے ہی مشرق وسطیٰ پہنچ چکے ہیں۔
اس دھمکی آمیز صورتحال کے باوجود ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے اور "ایک معاہدہ کافی جلد ہو سکتا ہے۔”


