بیجنگ (شِنہوا) ہیپاٹائٹس ڈی وائرس کے علاج کے لئے ایک جدید مونوکلونل اینٹی باڈی دوا کا دنیا کا پہلا نسخہ حال ہی میں بیجنگ کے ایک ہسپتال میں جاری کیا گیا ہے، جو عالمی سطح پر وائرل ہیپاٹائٹس کے علاج میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ دوا سنگہوا یونیورسٹی کی ایک ٹیم اور بیجنگ میں قائم بائیو فارماسیوٹیکل کمپنی ہواہوئی ہیلتھ نے تیار کی ہے۔ "لیبویٹگ” نامی یہ دوا دنیا بھر میں وائرل ہیپاٹائٹس کے لئے منظور کی جانے والی پہلی مونوکلونل اینٹی باڈی ہے، جو اس بیماری کی ایک نہایت سنگین قسم کے علاج میں طویل عرصے سے موجود خلا کو پر کرتی ہے۔
چین کی قومی طبی مصنوعات انتظامیہ نے جنوری 2026 میں ترجیحی جائزے کے بعد اس دوا کی مشروط منظوری دی۔
دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس بی کے 25 کروڑ 40 لاکھ سے زائد دائمی مریضوں میں سے تقریباً 5 فیصد افراد ہیپاٹائٹس ڈی وائرس سے بھی متاثر ہوتے ہیں اور اس مشترکہ انفیکشن کے مریضوں کے لئے ہدف پر مبنی موثر علاج طویل عرصے سے دستیاب نہیں تھا۔
"لیبویٹگ” ایک مونوکلونل اینٹی باڈی دوا ہے جو ہیپاٹائٹس بی اور ڈی وائرس کو جگر کے خلیوں میں داخل ہونے سے روک کر کام کرتی ہے۔ اس دوا کے کلینیکل تجربات 2018 میں شروع ہوئے جبکہ 2023 میں مشترکہ دائمی انفیکشن کے مریضوں پر ایک بین الاقوامی کثیر المرکزی مطالعہ شروع کیا گیا۔
طبی نتائج سے ظاہر ہوا کہ اس دوا نے وائرس کے خلاف موثر ردعمل اور جگر کے افعال کو معمول پر لانے میں نمایاں کامیابی حاصل کی، خاص طور پر جگر کے سکڑاؤ کے مریضوں کے لئے اس کے فوائد نمایاں رہے۔
اس سال چین میں 10 نئی اور جدید ادویات کو مارکیٹ میں فروخت کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔


