تنزانیہ کے ارِنگا ریجن میں جب صبح سویرے دھان کے کھیتوں پر سورج کی پہلی کرن پڑتی ہے تو کسان مشاؤری جولیئس ایک نو تعمیر شدہ آبپاشی سکیم کے کنارے چلتا دکھائی دیتا ہے۔ اس آبپاشی نظام کومعروف چینی تعمیراتی کمپنی چائنہ ریلوے جیان چانگ انجینئرنگ کمپنی (سی آر جے ای) ایسٹ افریقہ لمیٹڈ نے تعمیر کیا ہے۔
جولیئس مسلسل بہتے ہوئے پانی کو دیکھتا ہے جو اس کے کھیتوں کو زندگی بخش رہا ہے۔ یہ وہ منظر ہے جس کا وہ کبھی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔
جولیئس نے سالہا سال تک غیر یقینی بارشوں اور آبپاشی کے روایتی طریقوں پر انحصار کیا۔اسے اپنی فصل کے بارے میں کبھی تسلی نہیں رہتی تھی۔ لیکن آج جب پانی نہر کے ذریعے باقاعدگی سے بہ رہا ہے تو اِس بات نے اُسے ایک نئی امید اور اعتماد دیا ہے۔
اُس نے بتایا کہ اِس منصوبے نے پہلے ہی ہماری زندگیوں کو بدلنا شروع کر دیا ہے۔ پہلے ایک ایکڑ سے 10 سے 15 بوری دھان حاصل ہو جاتی تو اسے اچھی پیداوار سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب ہم 30 بوری تک پہنچ رہے ہیں اور اِس سے بھی زیادہ کی توقع رکھتے ہیں۔
اُس کا یہ اُمید افزا رویہ ارِنگا آبپاشی منصوبے کے تیسرے اور چوتھے حصوں کی بدولت آنے والی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جو بڑی مکومبوزی اسکیم کا حصہ ہیں۔ مکمل تکمیل سے پہلے ہی نظام کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ فعال ہو چکا ہے جس سے جولیئس جیسے کسانوں کو اعلیٰ پیداوار اور زیادہ استحکام والے مستقبل کی جھلک دکھائی دے رہی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (سواحلی): مشاؤری جولیئس، کسان
"اس منصوبے کی تکمیل کے بعد ہمیں توقع ہے کہ یقیناً ہم ایک ہی فصل کے موسم میں دو بار کاشت کر سکیں گے اور پیداوار بھی دوگنی ہو جائے گی۔ یعنی ہم 30 بوری سے بڑھ کر 40 بوری تک پہنچ سکتے ہیں۔ منصوبے کے آغاز سے پہلے ہم روایتی کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔ تب پیداوار بہت کم ہوتی تھی۔ اگر آپ 10 سے 15 بوری حاصل کر لیتے تو اسے ایک بڑی پیداوار سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب پیداوار میں تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں۔ منصوبے کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اس کی تعمیر کے دوران نوجوانوں کو روزگار بھی ملا ہے۔”
یہ منصوبہ تنزانیہ کے جنوبی پہاڑی علاقوں میں واقع ہے۔ منصوبے کے تحت تقریباً 78 کلومیٹر طویل آبپاشی کی نہریں اور دیہی علاقے کی 85 کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ اس سے 8 ہزار ہیکٹر سے زائد زرعی زمین کو فائدہ پہنچے گا۔ توقع ہے کہ منصوبہ مکمل ہونے پر متعدد دیہات کے دسیوں ہزار کسان مستفید ہوں گے۔
پراجیکٹ منیجر ژانگ ہونگ نے شِنہوا کو دئیے گئےحالیہ انٹرویو میں بتایا کہ ہم نے تمام نہروں کی کھدائی اور سڑکوں کی تعمیر مکمل کر لی ہے۔ اب صرف چند ڈھانچے باقی رہ گئے ہیں۔ بارشوں کے موسم کے دوران مشکلات کے باوجود ہمیں یقین ہے کہ منصوبہ جلد مکمل ہو جائے گا اور اسے تنزانیہ کے حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (سواحلی): ژانگ ہونگ، پراجیکٹ منیجر، چائنہ ریلوے جیانگ چانگ انجینیئرنگ کمپنی(سی آر جے ای) (ایسٹ افریقہ ) لمیٹڈ
مجھے یقین ہے کہ سی آر جے ای مستقبل میں بھی ترقی اور تعمیر کے شعبوں میں تنزانیہ کو اپنی طاقت اور توانائی فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔”
پاواگا ڈویژن میں اس منصوبے کا اثر پہلے ہی نمایاں محسوس کیا جا رہا ہے کیونکہ یہاں زراعت ہی لوگوں کے روزگار اور معاش کا بنیادی ستون ہے۔
ڈویژن آفیسر پواگا ایمانوئل نگابوجی نے بتایا کہ کاشتکاری ناکافی آبپاشی نظام کے باعث طویل عرصہ سے محدود رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہم سادہ اور روایتی نہروں کا استعمال کرتے تھے جو ضرورت کے لحاظ سے کافی نہیں تھیں۔ لیکن اب تو ایسے علاقے بھی زیر کاشت آ رہے ہیں جہاں پہلے کبھی پانی نہیں پہنچتا تھا۔ پیداوار بڑھ رہی ہے اور مواقع میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (سواحلی): ایمانوئل نگابوجی، ڈویژن آفیسر، پواگا ڈویژن
"منصوبہ ایک بار مکمل ہو گیا تو اس کے بے شمار فائدے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ نوجوانوں کے لئے معاشی مواقع کے دروازے کھولے گا۔ پواگا ڈویژن کے کئی نوجوان بڑے پیمانے پر پیداوار کریں گے۔ ان کی معیشت ترقی کرے گی اور پیداوار صنعتی شعبے تک بھی پھیلے گی۔ اس وقت ہمارے پاس چاول کی پروسیسنگ اور پیک شدہ چاول تیار کرنے کے کارخانے موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چاول سے بننے والی دیگر مصنوعات بھی تیار کی جا رہی ہیں۔”
یہ منصوبہ تقریباً 34 ارب تنزانیائی شلنگ (تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالر) کی سرکاری مالی معاونت سے چل رہا ہے۔ یہ منصوبہ ایسی اسکیم کی معاونت کر رہا ہے جو متعدد دیہات کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ اس منصوبے کا دارالسلام اور ڈوڈوما جیسے بڑے شہروں کو چاول کی فراہمی میں اہم کردار ہے۔
دارالسلام سےشِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
تنزانیہ کے ارِنگا ریجن میں چینی کمپنی آبپاشی منصوبہ مکمل کر رہی ہے
منصوبے سے زرعی پیداوار میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے
یہاں کے کسان عرصہ سےغیر یقینی بارشوں اور روایتی طریقوں پر انحصار کرتے تھے
آج آبپاشی نظام کی نہریں فصلوں کو باقاعدگی سے پانی دے رہی ہیں
اب فی ایکڑ پیداوار 15 بوری سے بڑھ کر 30 بوری ہو چکی ہے
منصوبے کے تحت جنوبی پہاڑی علاقوں میں 78 کلومیٹر نہریں بنائی گئیں
منصوبے سے 8 ہزار ہیکٹر سے زائد زرعی زمین کو فائدہ پہنچے گا
اب وہ علاقے بھی زیر کاشت آ گئے جہاں پہلے پانی نہیں پہنچتا تھا
پراجیکٹ منیجر کے مطابق وہ منصوبہ مکمل کر کے جلد حکام کے حوالے کر دیں گے
پواگا ڈویژن میں زراعت لوگوں کے روزگار اور معاش کی بنیاد ہے


