اسلام آباد (شِنہوا) روایتی چینی برش ورک اور پاکستانی ثقافتی نقوش کے امتزاج سے بنے ایک دلکش منظرنامے کے سامنے کھڑی عائشہ خان نے کہا کہ انہیں یوں محسوس ہوا جیسے دو جہان ایک ہی کینوس پر مل رہے ہوں۔
یہ فن پارہ پاک-چین دوستی کے جشن کے سلسلے میں پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس (پی این سی اے) میں منعقدہ "پاک-چین آرٹ نمائش” میں پیش کیا گیا تھا۔
اس رنگا رنگ نمائش میں ممتاز پاکستانی اور چینی فنکاروں کے فن پارے شامل تھے جو دونوں ممالک کے درمیان پائیدار تعلقات اور 75 سالہ سفارتی روابط کے نتیجے میں پروان چڑھنے والے گہرے ثقافتی رشتوں کی عکاسی کر رہے تھے۔
اس تقریب نے دونوں قوموں کے فنکاروں اور شائقین کو مشترکہ ورثے اور تخلیقی اظہار کے ایک خوبصورت سنگم پر اکٹھا کر دیا۔ بہت سے شرکاء فن پاروں پر تبادلہ خیال کرنے اور تصاویر بنانے میں مصروف نظر آئے۔
نیشنل کالج آف آرٹس کے طالب علم حمزہ علی نے کہا کہ میں نے پہلے بھی چینی آرٹ دیکھا ہےلیکن یہ مختلف ہے کیونکہ یہ پاکستانی موضوعات کے ساتھ بہت خوبصورتی سے جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسی نمائشیں نوجوانوں کو دوسری ثقافتوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کی وزیر مملکت وجیہہ قمر نے کہا کہ پاک-چین تعلقات محض تزویراتی اور سفارتی روابط تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ مضبوط ثقافتی اور عوامی سطح کے تعلقات کے آئینہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ نمائش فنکارانہ اظہار کے ذریعے اسی بندھن کی ایک واضح مثال ہے۔
وجیہہ قمر نے کہا کہ اس طرح کے ثقافتی اقدامات نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ نوجوان نسل کو پاک-چین تعلقات کی تاریخی اہمیت کو سمجھنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔
اس موقع پر پاکستان میں چینی سفارت خانے کے ثقافتی قونصلر چھن پینگ بھی موجود تھے جنہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد، ثقافتی ہم آہنگی اور مسلسل تعاون کا عکاس قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ آرٹ باہمی افہام و تفہیم کے فروغ اور دونوں عوام کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
فائن آرٹس کی ایک مقامی طالبہ سارہ رزاق نے کہا کہ یہ دیکھنا بہت متاثر کن ہے کہ کس طرح آرٹ الفاظ کے بغیر ممالک کو قریب لا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نمائش نے انہیں چینی ثقافت سے زیادہ قریب محسوس کروایا ہے


