چین کے شمال مغربی سنکیانگ ویغور خودمختار علاقے میں واقع ہورگوس ریلوے بندرگاہ گزشتہ دس برسوں کے دوران چین اور یورپ کے درمیان مال بردار ٹرینوں کی ایک مصروف ترین گزرگاہ بن چکی ہے۔ مارچ 2016 میں پہلی ٹرین یہاں سے روانہ ہوئی تھی اور اب تک یہاں سے 19 ہزار سے زائد مال بردار ٹرینیں روانہ ہو چکی ہیں۔
چائنہ ریلوے ارمچی گروپ کے زیر انتظام ہورگوس ریلوے اسٹیشن کے اعداد و شمار کے مطابق اس بندرگاہ کے ذریعے منتقل کیے جانے والے سامان کی اقسام میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ابتدا میں یہاں سے صرف روزمرہ استعمال کی اشیا اور ٹیکسٹائل مصنوعات بھیجی جاتی تھیں۔ اب 200 سے زائد اقسام کا سامان بھیجا جاتا ہے جس میں مشینی و برقی آلات، نئی توانائی کی گاڑیاں، الیکٹرانکس اور زرعی مصنوعات شامل ہیں۔
یہ توسیع اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ترسیل کے نظام کو مسلسل بہتر بنایا جا رہا ہے جہاں توجہ "دستیاب سامان کی ترسیل” سے بڑھ کر "زیادہ مالیت رکھنے والی اشیا کی ترسیل” کی جانب منتقل ہو گئی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ (چینی): ژانگ یون یو، بزنس مینجر، مقامی بین الاقوامی مال برداری کمپنی
"چین یورپ مال بردار ٹرین سروس اپنی تیز رفتاری، کم لاگت اور قابل اعتماد ہونے کی بدولت یورپی منڈیوں تک رسائی کے لئے ترجیحی طور پر ایک مؤثر ترسیلی حل ہے۔ اب تک ہم 2 ہزار سے زائد مال بردار ٹرین سفر میں شامل رہ چکے ہیں۔”
بندرگاہ پر ٹرینوں کےحجم میں مسلسل اضافہ کسٹمز کلیئرنس اور آپریشنل کارکردگی میں جاری بہتری کی بنیاد پر ممکن ہوا ہے۔ حالیہ برسوں میں ہورگوس نے بندرگاہی اصلاحات کو مزید گہرا کیا اور ایک جدید ماڈل متعارف کرایا جو "اسمارٹ ریلوے پورٹ” کو مقامی فاسٹ ٹریک کلیئرنس کے ساتھ جوڑتا ہے۔
کسٹمز، بارڈر انسپیکشن اور ریلوے حکام کے وسائل کو ہم آہنگ کر کے بندرگاہ اب ٹرین کے حصے کرنے، سامان منتقل کرنے، جانچ اور ریلیز جیسے عمل کو یکساں طور پر چلانے میں کامیاب ہےجس نے اس کی کارکردگی میں 20 فیصد سے زائد کا اضافہ کیاہے۔
یہ بندرگاہ چوبیس گھنٹے کلیئرنس خدمات فراہم کر رہی ہے۔ یہ نقل و حمل کے عمل کو آسان بناتی اور دستاویزات کی جانچ کو ورک فلو میں آگے لے جاتی ہے ۔ یہ بندرگاہ سرحد پار نقل و حمل میں رکاوٹیں دور کرنے کے لئے قازق ریلوے حکام کے ساتھ روزانہ اور ہفتہ وار بنیادوں پر رابطوں کو مضبوط کرتی ہے۔
چین کے مغربی تجارتی کھلے پن کے اقدامات میں ایک کلیدی ریلوے مرکز کے طور پر ہورگوس نے مال بردار ٹرین نیٹ ورک کے ذریعے بندرگاہ سے متعلق صنعتوں، سرحد پار ای کامرس اور نقل و حمل میں تیز رفتار ترقی دیکھی ہے۔
کبھی دور افتادہ سمجھا جانے والا یہ سرحدی شہر اب بین الاقوامی تجارت میں اپنا کردار مسلسل بڑھا رہا ہے اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی ترقی میں حصہ لے رہا ہے۔
ہورگوس، چین سےشِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن اسکرین :
ہورگوس ریلوے بندرگاہ چین یورپ تجارت میں کلیدی مرکز بن گئی
مارچ 2016 سے اب تک 19 ہزار سے زائد مال بردار ٹرینیں روانہ ہوئیں
نئی توانائی کی گاڑیوں اور الیکٹرانکس سمیت 200 اقسام کے سامان کی نقل وحمل
ترسیلی سامان میں روزمرہ استعمال کے علاوہ بیش قیمت اشیا بھی شامل ہیں
کسٹمز کلیئرنس اور آپریشنل نظام میں مسلسل اصلاحات لائی گئیں
اسمارٹ ریلوے کو مقامی فاسٹ ٹریک کلیئرنس سے ہم آہنگ کیا گیا
بندرگاہ کی کارکردگی میں 20 فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا ہے
قازق حکام سےمسلسل رابطے نےسرحد پار نقل و حمل میں رکاوٹیں کم کیں
ہورگوس کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی ترقی میں نمایاں حصہ ہے


