جرمن کار ساز کمپنی وولکس ویگن گروپ اور برقی گاڑیاں بنانے والی چینی کمپنی ایکس پینگ کی مشترکہ طور پر تیار کردہ پہلی گاڑی جمعہ کے روز پروڈکشن لائن سے باہر آ گئی۔ جرمن کمپنی کے مطابق یہ پیش رفت چینی منڈی میں اپنی موجودگی مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا ایک تازہ اشارہ ہے۔
یہ ماڈل ’’آئی ڈی یونیکس زیرو ایٹ‘‘ مقامی طور پر دو سال سے بھی کم عرصے میں تیار کیا گیا۔
اس لانچ کا تعلق 2023 میں دونوں کمپنیوں کے قائم کردہ طویل مدتی اسٹریٹجک شراکت داری سے ہے۔ وولکس ویگن کے مطابق دوسرا مشترکہ تیار کردہ ماڈل بھی رواں برس کے آخر میں مارکیٹ میں متعارف کرایا جائے گا۔
یہ گاڑی چین کے مشرقی صوبے انہوئی کے دارالحکومت ہیفےمیں واقع وولکس ویگن انہوئی کے پلانٹ میں پروڈکشن لائن سے باہر آئی۔
انہوئی سال 2025 میں پہلی بار آٹوموبائل اور نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی مجموعی پیداوار کے لحاظ سے چین کا سب سے بڑا صوبہ بن گیا۔ صوبے سے گاڑیوں کی برآمدات بھی پہلی بار دس لاکھ یونٹس سے تجاوز کر گئیں جس کے بعد یہ قومی سطح پر سرِ فہرست رہا۔
اب تک وولکس ویگن نے ہیفے میں ساڑھے تین ارب یورو (تقریباً چار ارب امریکی ڈالر) سے زائد سرمایہ کاری کی ہے۔
جرمنی سے باہر کمپنی کا سب سے بڑا تحقیق و ترقی مرکز بھی یہیں قائم ہے جہاں اس وقت تقریباً تین ہزار ماہرین کام کر رہے ہیں۔
ہیفے، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن اسکرین :
وولکس ویگن اور ایکس پینگ کی مشترکہ برقی گاڑی چین میں تیار
جرمن اور چینی کمپنیوں نے سال2023 میں اسٹریٹجک شراکت داری قائم کی
گاڑی کو ’’آئی ڈی یونیکس زیرو ایٹ‘‘ کا نام دیا گیا
برقی گاڑی تیار کرنے میں دو سال سے بھی کم وقت لگا
گاڑی چین کے مشرقی شہر ہیفے میں وولکس ویگن انہوئی پلانٹ میں تیار ہوئی
دونوں کمپنیاں ایک اور مشترکہ ماڈل بھی جلد متعارف کرائیں گی
انہوئی سال 2025 میں نئی توانائی گاڑیوں کی پیداوار میں سرفہرست رہا
صوبہ انہوئی سے گاڑیوں کی برآمدات پہلی بار دس لاکھ یونٹس سے بڑھ گئیں
وولکس ویگن نے ہیفے میں اب تک ساڑھے تین ارب یورو سرمایہ کاری کی
ہیفے میں جرمنی سے باہر وولکس ویگن کا بڑا تحقیق و ترقی مرکز قائم ہے


