تہران (شِنہوا) ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے ملک کے "دشمن” سے ہرجانے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
سپریم لیڈر کے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر جاری ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم دشمن سے معاوضہ حاصل کریں گے اور اگر وہ انکار کرے گا تو ہم اس کی اتنی املاک لے لیں گے جتنی ہم مناسب سمجھیں گے اور اگر یہ ممکن نہ ہوا تو ہم اس کی اتنی ہی جائیداد تباہ کر دیں گے۔
28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے مشترکہ حملے کرتے ہوئے تہران اور ایران کے دیگر شہروں کو نشانہ بنایا تھا جن میں اس وقت کے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای، اعلیٰ فوجی کمانڈر اور شہری جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں اور اثاثوں کو نشانہ بناتے ہوئے میزائلوں اور ڈرون سے کئی حملے کئے۔
علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا، جس کا اعلان مجلس خبرگان نے 8 مارچ کو کیا۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کو اپنا پہلا عوامی پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ میں ایران کی اہم حکمت عملیوں کا خاکہ پیش کیا۔


