پیرس (شِنہوا) فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی کے دوران فرانس کو نشانہ بنانا "ناقابل قبول” ہے۔
میکرون نے یہ بات ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہی۔
انہوں نے کہا کہ فرانس سختی سے ایک ایسے دفاعی لائحہ عمل کے تحت کام کر رہا ہے جس کا مقصد اپنے مفادات کا تحفظ، اپنے علاقائی شراکت داروں کی سلامتی اور جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ خطے کے ممالک کے خلاف براہ راست یا اپنے حلیفوں کے ذریعے کئے جانے والے حملے فوری طور پر بند کرے۔
میکرون نے یہ انتباہ بھی کیا کہ اس وقت جاری بے قابو کشیدگی پورے خطے کو افراتفری میں دھکیلنے کا خطرہ پیدا کر رہی ہے جس کے نتائج نہ صرف موجودہ صورتحال بلکہ آنے والے کئی برسوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو جلد از جلد بحال کیا جانا چاہیے۔


