خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ایڈجسٹمنٹ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں اسی نوعیت کے فیصلے کو حرام اور آئی ایم ایف مخالف ایڈجسٹمنٹ قرار دیا گیا تھا جبکہ آج اسی اقدام کو حلال ایڈجسٹمنٹ کہا جا رہا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا عمران خان کے دور حکومت میں جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 120ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی تو حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر 24روپے فی لیٹر ایڈجسٹمنٹ دی تھی، اسوقت یہ بندوبست صارفین پر اضافی ٹیکس لگائے بغیر کیا گیا تھا لیکن اس فیصلے کو میڈیا اور اپوزیشن نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے حرام اور آئی ایم ایف مخالف قرار دیا گیا۔
انکا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت تقریباً اسی صورتحال میں کھڑی ہے اور اسے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑی، حکومت نے مجبور ہو کر 23ارب روپے کا فرق پورا کیا جو ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 75روپے فی لیٹر اور پیٹرول میں 50روپے فی لیٹر کے برابر بنتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دور میں پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی اور سیلز ٹیکس صفر کر دیا گیا تھا جبکہ آج پیٹرول پر 105روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 55روپے فی لیٹر لیوی وصول کی جا رہی ہے، دوسری جانب تیل کے سٹاک کی وجہ سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریوں کو غیر معمولی فائدہ ہوا ہے اور انکا منافع 100ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
مزمل اسلم نے مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافہ پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 39روپے فی لیٹر اضافہ کر کے اسے 358روپے فی لیٹر تک پہنچا دیا گیا ہے جبکہ صرف ایک ہفتے میں مٹی کے تیل کی قیمت تقریبا ًدگنی ہو کر 170روپے فی لیٹر تک بڑھائی گئی۔
انکا کہنا تھا کہ مٹی کا تیل عام طور پر غریب طبقہ استعمال کرتا ہے اور اسے پیٹرول اور ڈیزل سے بھی زیادہ مہنگا کر دیا گیا ہے جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے۔


