اردن میں قائم چینی سفارتخانے نے جمعرات کے روز مقامی فلاحی ادارے تکیۃ اُم علی کے ساتھ مل کر رمضان المبارک کے دوران روزہ رکھنے والے 5 ہزار افراد کے لئے افطار کھانے تیار اور تقسیم کئے۔
اردن کے دارالحکومت عمان میں سفارتخانے کے نمائندوں نے فلاحی ادارے کے رضاکاروں کے ساتھ مل کر کھانوں کی تیاری اور انہیں پیش کرنے میں حصہ لیا۔ اس اقدام سے اس مقدس مہینے میں یکجہتی اور باہمی ہمدردی کے جذبے کی عکاسی ہوئی۔
رضاکاروں نے ہزاروں مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور انہیں باوقار اور خوشگوار ماحول میں معیاری کھانوں کے ساتھ روزہ افطار کرایا۔
ساؤنڈ بائٹ (عربی): سامر بلقر، ڈائریکٹر جنرل، تکیۃ اُم علی
"چینی سفارتخانے کے ساتھ ہماری شراکت داری کو طویل عرصہ ہو گیاہے۔ سفارتخانے کا عملہ ہر سال یہاں آ کر روزہ داروں کی رضاکارانہ خدمت کرتا ہے اور انہیں خوراک کے عطیات بھی دیتا ہے۔ ہمیں ماضی میں کئی برسوں تک چینی حکومت کی جانب سے چاول کے عطیات بھی ملتے رہے ہیں۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران اردن میں سرمایہ کاری کرنے والی چینی کمپنیوں کے ساتھ بھی ہمارے قریبی روابط قائم رہے ہیں۔”
عمان سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
اردن میں چینی سفارتخانے اور تکیۃ اُم علی کا مشترکہ افطار پروگرام
عمان کے 5 ہزار روزہ داروں کو افطاری اور کھانے پیش کئے گئے
سفارتخانے کے نمائندوں اور رضاکاروں نے مل کر کھانے تیار کئے
پروگرام رمضان کے مقدس مہینے میں یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار ہے
ہزاروں مہمانوں نے باوقار ماحول میں افطار کیا
چینی سفارتخانے اور تکیۃ اُم علی کے درمیان دیرینہ تعاون سالہاسال جاری ہے
چینی سفارتخانے کا عملہ ہر سال رضاکارانہ خدمات انجام دیتا ہے
چینی حکومت کی جانب سے ماضی میں غذائی امداد بھی فراہم کی گئی


