اسٹینڈ اپ (انگریزی): ژو یانگ، نمائندہ شِنہوا
"بیجنگ میں جاری ‘دو اجلاسوں’ میں توجہ کا مرکز پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کا مسودہ ہے جو سال 2026 سے سال 2030 تک دنیا کی دوسری بڑی معیشت کی رہنمائی کرے گا۔
تو یہ منصوبہ چین کی مستقبل کی ترقی اور دنیا کے لئے کس قدر اہم ہے؟
میں نے کچھ غیر ملکی صحافیوں سے بات کی جنہوں نے اپنے خیالات ہمارے ساتھ شیئر کئے۔”
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): محمد اصغر، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان
"پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کی دستاویز نہایت جامع اور اہم ہے۔ اگلے پانچ سالہ منصوبے میں کئی اہداف شامل ہیں۔”
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): ہیلینا پروچینکو، چائنہ عرب ٹی وی
"یہ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کا پہلا سال ہے۔ اس لئے ظاہر ہے کہ ہماری خاص توجہ اس بات پر ہے کہ چین کے مستقبل میں کیا ہونے والا ہے۔ یہ اس قدر اہم ہے کہ نہ صرف ترقی کو مستحکم کرتا ہے بلکہ اسے بہتر بنانے میں بھی مدد دیتا ہے۔”
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): ٹوم وین ڈی ویگھے، وی آر ٹی نیوز، بیلجیم
"ہم خاص طور پر یورپ سے آئے ہیں تاکہ جان سکیں کہ چین آئندہ پانچ سالوں میں کیا کرے گا۔ یہاں جو کچھ بھی ہوگا اس کا اثر یورپ پر بھی پڑے گا۔ اسی لئے ہماری یہاں موجودگی ضروری ہے۔”
ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): سیرک کورژمبایوف، ایڈیٹر انچیف، ڈیلووے، قازقستان
"چین کا پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ وسطی ایشیا خاص طور پر قازقستان اور چین کے درمیان تعاون کے لئے بہت اہم ہے۔”
اگلے پانچ برسوں میں چین کو توقع ہے کہ وہ اپنی جی ڈی پی کی شرحِ نمو کو مناسب حد میں برقرار رکھے گا۔ یہ چین کے سال2020 کے فی کس جی ڈی پی کو سال 2035 تک دوگنا کرنے کے ہدف کے حصول کے لئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا تاکہ ایک معتدل ترقی یافتہ ملک کی سطح حاصل کی جا سکے۔
15ویں پانچ سالہ منصوبے کے مقاصد اور اقدامات کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لئے چین نے چھ شعبوں میں مجموعی طور پر 109 بڑے منصوبے پیش کئے ہیں جو نئی معیاری پیداواری قوتوں کی ترقی کی رہنمائی سے لے کر عوامی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے اور بہتر بنانے تک پھیلے ہوئے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 5 (انگریزی): محمد اصغر، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان
"اب چین نے مقدار کے بجائے معیار پر توجہ مرکوز کر لی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس سے معیشت کو نئی جان ملے گی اور مطلوبہ اقتصادی ترقی کے حصول میں مدد ملے گی۔
مجھے یقین ہے کہ چین مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔”
ساؤنڈ بائٹ 6 (انگریزی): ٹوم وین ڈی ویگھے، وی آر ٹی نیوز، بیلجیم
"نیا پانچ سالہ منصوبہ روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے ساتھ ساتھ توانائی کے نظام میں تبدیلی پر مرکوز ہوگا۔ ہم یہاں پہلے ہی کچھ ایسی کمپنیوں کے دورے کر چکے ہیں جو روبوٹکس کے شعبے میں کام کر رہی ہیں۔
میرے خیال میں ہر پانچ سال کے بعد اس خاص منصوبے پر غور کرنا بہت اہم ہے کیونکہ یہ نہ صرف چین بلکہ یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔”
ساؤنڈ بائٹ 7 (انگریزی): ابو بکر باہ، افریقہ ینگ وائسز ٹی وی
"دیکھیں اعلیٰ معیار کی ترقی کے ساتھ چین میں ٹیکنالوجی کی بھرمار ہے۔ چین کی جو چیز مجھے سب سے زیادہ پسند ہے وہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی ہے۔
صرف چین ہی اس پانچ سالہ منصوبے سے فائدہ نہیں اٹھائے گا بلکہ پوری دنیا اس سے مستفید ہوگی۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرا ملک افریقہ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔”
چین کے نظامِ حکمرانی میں پانچ سالہ منصوبے اقتصادی اور سماجی ترقی کے لئے حکمتِ عملی کے بنیادی فریم ورک کا کردار ادا کرتے ہیں۔
غیر ملکی صحافیوں نے چین کے پانچ سالہ منصوبوں کی افادیت کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کرتے ہوئے مستقبل میں مزید تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 8 (انگریزی): تانیا گلوچیوا، اخبار ’’ڈوما‘‘ بلغاریہ
"میں جانتی ہوں کہ چودھویں پانچ سالہ منصوبے میں ہدف سے بڑھ کر سب کچھ حاصل کیا گیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی منصوبہ بندی واقعی اہم ہے۔ میں جاننا چاہتی ہوں کہ اگلے پانچ برسوں کے لئے سیاستدان کیا منصوبہ بنا رہے ہیں۔”
ساؤنڈ بائٹ 9 (چینی): علیینا سیلیونوا، رشیا ٹوڈےٹی وی
"رواں برس کی سرکاری ورک رپورٹ میں کئی تصورات کو بھی اجاگر کیا گیا جیسے ایمبوڈیڈ اے آئی اور مصنوعی ذہانت۔ بہت سی روسی کمپنیاں چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے میں حصہ لینے کی خواہاں ہیں کیونکہ اس منصوبے میں شامل ہونا مستقبل کے لئےبہت قیمتی مواقع حاصل کرنے کے مترادف ہے۔”
ساؤنڈ بائٹ 10 (انگریزی): موژکا پیسیک، فری لانس صحافی و مصنف، ’’ڈیلو ‘‘اخبار ، سلووینیا
"جیسا کہ ہم ماضی سے جانتے ہیں کہ پانچ سالہ منصوبے صرف چین ہی نہیں بلکہ دنیا کی معیشت کو بھی تشکیل دیتے ہیں۔ چین کی مستحکم ترقی کا عالمی معیشت پر گہرا اثر ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں چین کی پالیسیوں سے باخبر رہنا چاہئے اور اس پیغام کو پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ ہم تعاون اور شراکت کے بہتر سے بہتر طریقے تلاش کر سکیں۔”
بیجنگ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن اسکرین:
بیجنگ میں جاری دو اجلاسوں میں پندرہویں پانچ سالہ منصوبہ توجہ کا مرکز
منصوبہ 2026 سے 2030 تک چین کی اقتصادی سمت متعین کرے گا
غیر ملکی صحافیوں نے منصوبے کو عالمی معیشت کے لئے اہم قرار دیا
منصوبہ چین کی پائیدار اور اعلیٰ معیار کی ترقی کو آگے بڑھائے گا
چین اگلے پانچ برسوں میں جی ڈی پی کی مستحکم شرح برقرار رکھنا چاہتا ہے
2035 تک فی کس آمدن دوگنا کرنے کے ہدف کو مضبوط بنیاد ملےگی
چھ شعبوں میں مجموعی طور پر 109 بڑے منصوبے رکھے گئےہیں
نئی معیاری پیداواری قوتیں اور ٹیکنالوجی ترقی کے اہم ستون بنیں گی
صحافیوں کے مطابق چین کی ترقی عالمی معیشت پر نمایاں اثر ڈالتی ہے
مبصرین نے مستقبل میں چین کے ساتھ مزید عالمی تعاون پر زور دیا


