ہومتازہ ترینابھرتی ٹیکنالوجی چین میں کیریئر کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے

ابھرتی ٹیکنالوجی چین میں کیریئر کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے

چین جب اپنے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026 تا 2030) کے ابتدائی سال میں داخل ہو رہا ہے تو توقع کی جا رہی ہے کہ سائنسی و تکنیکی جدت روزگار میں اضافے کا ایک بڑا محرک بنے گی۔

ابھرتے ہوئے شعبے جیسے ایمبوڈیڈ انٹیلی جنس اور مصنوعی ذہانت پر مبنی صحت کی دیکھ بھال، تحقیق، ترقی اور عملی استعمال کے میدان میں نئی ملازمتیں پیدا کر رہے ہیں۔

اسٹینڈ اپ (انگریزی): ژانگ جِنگ یی، نمائندہ شِنہوا

"ہم سب ایمبوڈیڈ انٹیلی جنس کے بارے میں بات کر رہے ہیں مگر یہ حقیقت میں کام کیسے کرتی ہے؟ آج ہم براہِ راست فیکٹری کے فلور پر پہنچتے ہیں تاکہ وہاں سے روبوٹس کو تربیت دینے والے افراد سے ملیں اور ان کی کہانیاں سنیں۔”

چین کے ایک ہیومینائیڈ روبوٹکس انوویشن سینٹر میں انجینئرز حقیقی دنیا کا ڈیٹا جمع کر رہے ہیں تاکہ روبوٹس کو یہ سکھایا جا سکے کہ وہ انسانوں اور اپنے ماحول کے ساتھ کس طرح تعامل کریں۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): مسٹر شو، ایپلیکیشن انجینئرنگ ڈائریکٹر، نیشنل اینڈ لوکل کوبلٹ ہیومینائیڈ روبوٹکس انوویشن سینٹر، چین

"روبوٹس کو تربیت دینا کسی حد تک بچے کی پرورش کرنے کے مترادف ہے۔ ہم بڑی مقدار میں حقیقی دنیا کا ڈیٹا جمع کرتے ہیں تاکہ سیکھنے کے لئے ‘نصاب’ تیار کیا جا سکے اور روبوٹس سمجھ سکیں کہ انسان کیسے سوچتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح تعامل کرتے ہیں۔”

ان تربیتی مراکز نے نئی نوعیت کی ملازمتیں بھی پیدا کی ہیں جن میں ڈیٹا جمع کرنے والے افراد اور اے آئی ٹرینرز سے لے کر روبوٹکس انجینئرز اور سسٹم آپریٹرز تک شامل ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): مس چاؤ، انجینئر، نیشنل اینڈ لوکل کوبلٹ ہیومینائیڈ روبوٹکس انوویشن سینٹر، چین

"میرا کام جدید ترین ٹیکنالوجی اور حقیقی ضروریات کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا ہے یعنی پیچیدہ ٹیکنالوجی کو ایسے حل میں تبدیل کرنا جنہیں صارفین آسانی سے سمجھ سکیں۔”

ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): یانگ ژینگ یے، ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ برانڈ پروموشن، نیشنل اینڈ لوکل کوبلٹ ہیومینائیڈ روبوٹکس انوویشن سینٹر، چین

"ہر صنعتی انقلاب کے ساتھ ملازمتوں کے خاتمے کے خدشات بھی جنم لیتے ہیں۔ تاہم نئے شعبے نئے پیشے بھی پیدا کرتے ہیں جن میں ڈیٹا جمع کرنا اور اس کی تصدیق، تحقیق و ترقی اور دیکھ بھال جیسے کام شامل ہیں۔”

اسی دوران مصنوعی ذہانت کے ذریعے صحت کی دیکھ بھال کا شعبہ (اے آئی ہیلتھ کیئر سیکٹر)بھی نئی کیریئر مواقع فراہم کر رہا ہے۔

چینی مصنوعی ذہانت (اے آئی) میڈیکل ٹیکنالوجی پہلے ہی سعودی عرب سمیت بیرون ملک استعمال ہو رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں انسانی ڈاکٹروں کی نگرانی میں عام بیماریوں کی تشخیص کے لئے کی مدد کرتے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): سُون وے ژین، اے آئی میڈیکل آر اینڈ ڈی انجینئر، سِنی اے آئی

"میرا کام (اے آئی) کو بیماریوں کی تشخیص کے لئے تربیت دینا ہے۔ میں طبی ڈیٹا کو معیاری بنانے پر کام کرتی ہوں تاکہ اے آئی اسے سمجھ سکے اور مختلف طبی حالات کو پہچان سکے۔ اس سے ڈاکٹروں کو دہرائے جانے والے کاموں اور کلینیکل فیصلے کرنے میں بہتر طور پر مدد ملتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کا فروغ نہ صرف صنعتوں کو بدل رہا ہے بلکہ مکمل طور پر نئے پیشے بھی تخلیق کر رہا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 5 (چینی): فینگ جون، اوورسیز ایکوسسٹم ڈویلپمنٹ ڈائریکٹر، سِنی اے آئی

"ہم چین کی ٹیکنالوجی اور خیالات کو بیرونِ ملک لے جا کر مقامی ضروریات کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ اس مقصدکے لئے ایسے پیشہ ور ماہرین درکار ہوتے ہیں جو غیر ملکی گاہکوں سے بات چیت کر سکیں، ان کی ضروریات کی نشاندہی اور تشریح کر سکیں، مقامی ثقافتی سیاق و سباق کو سمجھ سکیں، مقامی طریقہ کار کے مطابق ڈھل سکیں اور ان تمام صلاحیتوں کو یکجا کر سکیں۔”

ساؤنڈ بائٹ 6 (چینی): ژانگ شاؤدیان، چیئرمین، سِنی اے آئی

” اے آئی سے متعلق (صحت کے شعبے) کے روزگار کے شعبے میں آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور میڈیکل کے پیشہ ور افراد کی زبردست طلب ہے۔ اس کے علاوہ ڈیٹا کی صفائی اور نشاندہی کے ساتھ ساتھ اے آئی کی گورننس اور ضابطہ کاری کے لئے بھی بڑی تعداد میں ماہرین درکار ہیں۔”

چین کی جانب سے اعلیٰ معیار کی ترقی کی طرف پیشرفت کے حوالے سے کاروباری حلقوں کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی پر مبنی اختراعات روزگار کو مسلسل بدلتی رہیں گی اور پیشہ ورانہ ترقی کے نئی راہیں کھولیں گی۔

شنگھائی، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں