بشکیک (شِنہوا) ایک کرغز ماہر اقتصادیات کا کہنا ہے کہ چین کی معیشت میں مستحکم ترقی عالمی اقتصادی ترقی کے لئے اعتماد کا باعث ہے۔
چین کی 14ویں قومی عوامی کانگریس کے چوتھے اجلاس میں منظور ہونے والی حکومتی کارکردگی رپورٹ میں 2026 کے لئے اقتصادی ترقی کا ہدف 4.5 سے 5 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
کرغزستان کی انٹرنیشنل ہائر سکول آف میڈیسن کے وائس ریکٹر اور معاشیات کے پروفیسر تولون بیک عبدیروف نے شِنہوا کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ موجودہ پیچیدہ بین الاقوامی ماحول میں یکطرفہ پسندی، تجارتی تحفظ پسندی، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر یہ ترقی کا ہدف کافی حقیقت پسندانہ ہے۔
ماہر نے کہا کہ ان حالات میں یہ حقیقت کہ چین کی معیشت مسلسل مستحکم ترقی دکھا رہی ہے، عالمی معیشت کے لئے ایک مضبوط اشارہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقررہ ہدف ایک بنیادی سطح کے طور پر کام کرتا ہے اور اگر سازگار حالات پیدا ہوں تو زیادہ مضبوط ترقی کے لئے گنجائش چھوڑتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی معیشت میں سست رفتاری اور بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے دوران چین کا اقتصادی ترقی کا ہدف توقعات کو مستحکم کرنے اور عالمی معیشت کے مستقبل پر اعتماد بڑھانے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پروفیسر عبدیروف نے زور دیا کہ چین عالمی معیشت کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے۔چین کی صنعتی پیداوار اور مقامی طلب عالمی اجناس کی مارکیٹ، بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاؤ پر نمایاں اثر ڈالتی ہیں۔ نتیجتاً اعلان کردہ ترقی کا ہدف بین الاقوامی مارکیٹوں کے لئے ایک کلیدی اشاریہ ہے جو غیر یقینی صورتحال کو کم کرنے اور عالمی اقتصادی توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔


