امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر امریکی فوجی حملوں کے جواب میں امریکا کے مغربی ساحل خصوصاً کیلیفورنیا میں ڈرون حملہ کر سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس خطرے کی تصدیق کیلئے فی الحال کوئی ٹھوس انٹیلیجنس موجود نہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ انتباہ ایک خفیہ میمو کے ذریعے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو بھیجا گیا ہے جو جوائنٹ ٹیررازم ٹاسک فورس کے تحت مختلف ایجنسیوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
میمو میں کہا گیا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر کسی نامعلوم جہاز سے بغیر پائلٹ ڈرونز کے ذریعے امریکا کے ساحل کے قریب سے اچانک حملہ کرنے کا ارادہ رکھ سکتا ہے جس کے ممکنہ اہداف کیلیفورنیا میں واقع غیر متعین مقامات ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ معلومات فروری کے اوائل میں حاصل ہوئی تھیں جس میں امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ اگر امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے تو ایران اسکے جواب میں کارروائی کر سکتا ہے تاہم میڈیا کے مطابق قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ یہ انتباہ صرف احتیاطی نوعیت کا ہے اور اسوقت کسی قابل اعتماد یا مستند انٹیلیجنس پر مبنی نہیں۔
دوسری جانب سابق امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی انٹیلیجنس چیف جان نے کہا ہے کہ ایران کی لاطینی امریکا اور میکسیکو سمیت جنوبی امریکی خطوں میں موجودگی اور اسکی بڑھتی ہوئی ڈرون صلاحیتیں سیکیورٹی اداروں کیلئے تشویش کا باعث ہیں۔


