وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ تیز رفتار، قابل اعتماد انٹرنیٹ ملکی معیشت، معاشرت، تعلیم، صحت و قومی سلامتی کیلئے بنیادی اہمیت کا حامل ہے، فائیو جی کی نیلامی سے انٹرنیٹ سروس کی فراہمی بہتر، اقدام وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کو مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔
جمعرات کو فائیو جی سپیکٹرم کی اسائنمنٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شزا فاطمہ نے بتایا کہ پاکستان میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو گیا ہے جس کے تحت 480 میگا ہرٹز سپیکٹرم تین موبائل آپریٹرز جاز، زونگ اور یوفون نے حاصل کی، اس نیلامی کے ذریعے حکومت کو تقریبا 507 ملین ڈالر آمدن ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ نیلامی کے پہلے مرحلے کے بعد ایک روزہ وقفے سے اسائنمنٹ مرحلے کا عمل ہوگیا جس میں مختلف بینڈز میں سپیکٹرم کی حتمی تقسیم کی گئی جبکہ 3.5 گیگا ہرٹز بینڈ کے عمل کا باقاعدہ افتتاح بھی کر دیا گیا ہے۔
شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ یہ نیلامی کئی حوالوں سے تاریخی ہے کیونکہ اس سے پہلے اتنی بڑی مقدار میں سپیکٹرم کبھی نیلام نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان 1987ء سے اب تک مجموعی طور پر صرف 274 میگا ہرٹز سپیکٹرم پر کام کر رہا تھا جس سے ملک کو خطے میں سپیکٹرم کی کمی کا سامنا تھا، تاہم اس نیلامی کے بعد مجموعی سپیکٹرم تقریبا ساڑھے 700 میگا ہرٹز تک پہنچ گیا جس سے پاکستان اب عالمی اوسط کے قریب آ گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ تیز رفتار اور قابل اعتماد انٹرنیٹ آج کی معیشت، معاشرت، تعلیم، صحت اور قومی سلامتی کیلئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اس نیلامی سے نہ صرف فور جی سروس بہتر ہوگی بلکہ پاکستان باضابطہ طور پر فائیو جی دور میں بھی داخل ہو جائے گا جو وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کو مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔
جدید ٹیکنالوجی خصوصا آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور دیگر ابھرتی ٹیکنالوجیز کیلئے تیز رفتار انٹرنیٹ ناگزیر ہے، اس سے نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے نئے مواقع ملیں گے جبکہ زراعت، صحت اور دیگر شعبوں میں بھی ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ ملے گا بالخصوص دور دراز علاقوں میں تعلیم اور صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر ہوگی۔


