ہومانٹرنیشنلایرانی سکول پر حملے میں امریکی میزائل استعمال کیا گیا، ابتدائی تحقیقات

ایرانی سکول پر حملے میں امریکی میزائل استعمال کیا گیا، ابتدائی تحقیقات

واشنگٹن (شِنہوا) نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جاری فوجی تحقیقات میں ابتدائی طور پر یہ طے کیا گیا ہے کہ ایران کے ایک سکول پر امریکی ٹوم ہاک میزائل کا حملہ ہدف کی غلطی کا نتیجہ تھا۔ حملے میں زیادہ تر طلبہ سمیت 160 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

تحقیقات سے آگاہ حکام نے اخبار کو بتایا کہ امریکی سنٹرل کمانڈ کے افسران نے ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کی دی گئی پرانی معلومات کی بنیاد پر حملے کے مقام کی نشاندہی کی جس کے باعث ہدف کے تعین میں غلطی ہوئی۔

اخبار کے مطابق یہ نتائج ابتدائی نوعیت کے ہیں اور کئی اہم سوالات ابھی حل طلب ہیں جن میں یہ بھی شامل ہے کہ پرانی معلومات کی دوبارہ تصدیق کیوں نہیں کی گئی۔

28 فروری کو میناب میں واقع شجرہ طیبہ ایلیمنٹری سکول پر یہ حملہ اس وقت ہوا جب امریکہ قریب واقع ایرانی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں کر رہا تھا۔

رپورٹ میں بتایاگیا کہ چونکہ اس تنازع میں ٹوم ہاک میزائل استعمال کرنے والا واحد ملک امریکہ ہی سمجھا جاتا ہے، اس لئے یہ نتیجہ زیادہ حیران کن نہیں تھا لیکن اس واقعے نے ایران میں امریکی فوجی حملوں پر پہلے ہی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ سکول پر حملے کا ذمہ دار امریکہ نہیں ایران ہے۔

ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میں نے جو کچھ دیکھا ہے اس کی بنیاد پر یہ حملہ ایران نے کیا۔

پیر کے روز ٹرمپ نے کہا کہ ٹوم ہاک میزائل دیگر ممالک کو فروخت بھی کئے جاتے ہیں اور وہ انہیں استعمال بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممکن ہے ایران کے پاس بھی کچھ ٹوم ہاک میزائل ہوں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طلبہ سے بھرے سکول پر حملہ حالیہ دہائیوں کی سب سے تباہ کن فوجی غلطیوں میں سے ایک کے طور پر ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں