اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس قرارداد کے مسودے کو منظور کرنے میں ناکام رہی جس میں تمام فریقین پر زور دیا گیا تھا کہ وہ اپنی فوجی سرگرمیاں فوری طور پر روک دیں، مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کریں اور شہریوں و شہری بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے تمام حملوں کی مذمت کریں۔
کونسل نے روس کی جانب سے پیش کردہ اس قرارداد کے مسودے کو مسترد کیا جس کے حق میں 4 اور مخالفت میں 2 ووٹ آئے جبکہ 9 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ روس، چین، پاکستان اور صومالیہ نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ امریکہ اور لٹویا نے اس کی مخالفت کی۔
اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب واسیلی نیبنزیا نے کہا کہ ہمیں شدید مایوسی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کونسل کے کئی ارکان ان کے ملک کی تجویز کردہ قرارداد کو پاس کرنے کے لئے کافی ہمت اور دانشمندی کا مظاہرہ نہ کر سکے۔
اس سے قبل سلامتی کونسل نے مشرق وسطیٰ کے موجودہ بحران کے حوالے سے ایک اور قرارداد منظور کی تھی۔ یہ بحران 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی حملوں اور اس کے نتیجے میں پورے خطے میں ایران کی جوابی کارروائیوں سے شروع ہوا تھا۔
بحرین کی جانب سے خلیج تعاون کونسل کی طرف سے پیش کردہ اس قرارداد کو 13 ووٹوں کے ساتھ منظور کیا گیا جبکہ دو ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اس قرارداد میں جی سی سی ممالک اور اردن کے خلاف ایرانی حملوں کی مذمت کی گئی، ایران سے ان حملوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور یہ قرار دیا گیا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور عالمی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہیں۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے کہا کہ میں یہ واضح کر دوں کہ یہ قرارداد میرے ملک کے خلاف کھلی ناانصافی ہے جو خود جارحیت کے واضح اقدام کا اصل نشانہ بنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اسے غیر منصفانہ، غیر قانونی اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے منافی سمجھتے ہیں۔


