جنیوا(شِنہوا)سوئٹزرلینڈ کے جنوب مغربی علاقے ویلیس کینٹن میں واقع کرانز-مونٹانا اسکی ریزارٹ کے ایک بار میں آگ لگنے کے نتیجے میں تقریباً 40 افراد ہلاک اور 110 سے زائد زخمی ہو گئے۔
ویلیس کینٹن کے پولیس چیف فریڈرک گسلر نے ایک پریس کانفرنس میں جانی نقصان کے اعداد و شمار کی تصدیق کی۔
انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ زخمیوں میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔
پولیس کے مطابق زخمیوں کو ویلیس کینٹن کے دارالحکومت سیون سمیت لوزان، زیورخ اور جنیوا جیسے دیگر شہروں کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، زخمیوں میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں۔
ویلیس کینٹن کی حکومت کے صدر ماتھیاس رینارڈ نے کہا کہ بعض زخمیوں کو بعد ازاں بیرون ملک ہسپتالوں میں بھی منتقل کیا جا سکتا ہے۔
مقامی میڈیا نے اس سے قبل پولیس کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ نئے سال کی شب کرانز-مونٹانا کے وسط میں واقع ایک بار میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً ڈیڑھ بجے کے بعد خطرے کی اطلاع دی گئی، جس کے بعد مختلف کینٹنز سے درجنوں ایمبولینسیں اور متعدد ہیلی کاپٹر روانہ کئے گئے۔
سوئس کنفیڈریشن کے صدر گوئی پارملین نے اس واقعے کو ملک کی تاریخ کے بدترین سانحات میں سے ایک قرار دیاہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت تمام متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔
پارملین نے مزید بتایا کہ وفاقی محل پر پرچم پانچ روز تک سرنگوں رہے گا، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام کی جانی چاہیے۔
ویلیس کینٹن کی اٹارنی جنرل بیٹرائس پیلود نے کہا کہ آگ لگنے کی وجہ کا تعین کرنا فی الحال قبل از وقت ہے۔


