ڈالیان (شِنہوا) چینی کسٹمز کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن ( اپیک) کی معیشتوں کو تجارتی رکاوٹیں ختم کرنے اور سرحد پار تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مزید ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں، تاکہ ایشیا پیسیفک خطے میں سپلائی چینز کو زیادہ محفوظ، مستحکم اور مئوثر بنایا جا سکے۔
جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے نائب سربراہ ژانگ باؤفینگ نے چین کے شمال مشرقی صوبہ لیاؤننگ کے شہر ڈالیان میں جاری 2026 اپیک ذیلی کمیٹی برائے کسٹمز طریقہ کار (ایس سی سی پی) کے جاری دوسرے مکمل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "سلامتی اور سہولت کاری کسٹمز حکمرانی کے مستقل موضوعات ہیں۔”
ژانگ نے کہا کہ عالمی سپلائی چینز میں بڑھتی ہوئی تقسیم کے باعث قواعد و معیارات میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور سپلائی چینز کی لچک کو مضبوط بنانا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام فریق اس اجلاس کو قواعد و معیارات میں ہم آہنگی مزید گہری کرنے، خطرات کے انتظام اور نگرانی میں تعاون مضبوط بنانے، لین دین کے اخراجات کم کرنے، کسٹمز کلیئرنس کی کارکردگی بہتر بنانے اور کاروباری اداروں کے لیے زیادہ محفوظ، شفاف اور قابل پیش گوئی کاروباری ماحول فراہم کرنے کے موقع کے طور پر استعمال کریں گے۔
ایشیا پیسیفک خطہ دنیا کی ایک تہائی آبادی کا گھر ہے، عالمی معیشت کے 60 فیصد سے زیادہ حصے کا حامل ہے اور عالمی تجارت کا تقریباً نصف حصہ ہے، جو اسے عالمی اقتصادی ترقی کا ایک اہم محرک بناتا ہے۔
چین کی دیگر اپیک معیشتوں کے ساتھ تجارت رواں سال کے پہلے سات ماہ میں 180 کھرب یوآن (تقریباً 265 کھرب امریکی ڈالر) رہی، جو گزشتہ سال کی نسبت21 فیصد زیادہ ہے۔ یہ چین کی مجموعی اشیا کی بیرونی تجارت کی شرح نمو سے زیادہ ہے اور علاقائی تعاون کی مضبوط صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔
اجلاس کے دوران شرکا نے سمارٹ آلات کا مشاہدہ کیا، تجربات اور خیالات کا تبادلہ کیا اور اتفاق رائے پیدا کیا۔ چین کے کسٹمز نے سمارٹ کسٹمز پارٹنرشپ پروگرام میں تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا اور سمارٹ کسٹمز کی ترقی میں کامیابیوں کی نمائش بھی کی۔


