انقرہ (لارڈ میڈیا): ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مکہ معاہدے میں مصر کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ عرب میڈیا سے گفتگو میں اردوان نے کہا کہ مصر مستقبل میں معاہدے کا رکن بن سکتا ہے، کیونکہ یہ معاہدہ مزید فریقین کی شمولیت کے لیے کھلا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ معاہدے کے تحت شریک ممالک کے لیے لازم ہے کہ اگر کسی رکن پر بیرونی حملہ ہو تو وہ اجتماعی طور پر اس کا جواب دیں۔
اردوان نے مزید کہا کہ ہماری ترجیح یورپی یونین نہیں ہے، جبکہ یورپ ناکامی کا سامنا کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس کی طویل بندش کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔
ترک وزارت دفاع کے مطابق، مکہ معاہدے کا مقصد دفاعی اور فوجی تعلقات کو مضبوط کرنا ہے۔ سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزيز نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ تینوں ملکوں کے درمیان تاریخی روابط کی توثیق ہے۔


