ہومانٹرنیشنلپام بونڈی کی برطرفی کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے مزید اعلیٰ حکام...

پام بونڈی کی برطرفی کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے مزید اعلیٰ حکام کے مستعفی یا ہٹائے جانے کا خدشہ

واشنگٹن (شِنہوا) امریکی جریدے دی اٹلانٹک نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اٹارنی جنرل پام بونڈی کی برطرفی کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے مزید اعلیٰ حکام کے مستعفی ہونے یا عہدوں سے ہٹائے جانے کا امکان ہے۔

جریدے نے وائٹ ہاؤس کے منصوبوں سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ انتظامیہ سے دیگر اہم شخصیات کی رخصتی کے بارے میں بات چیت جاری ہے جن میں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل، آرمی سیکرٹری ڈینیل ڈرسکول اور لیبر سیکرٹری لوری شاویز ڈی ریمر شامل ہیں۔

حساس نوعیت کے ان معاملات پر نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے ذرائع نے واضح کیا کہ ان حکام کی روانگی کا وقت ابھی متعین نہیں ہے اور صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

پام بونڈی کی رخصتی ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت میں کابینہ کی سطح پر دوسری برطرفی ہوگی۔ اس سے قبل مارچ میں صدر ٹرمپ نے قیادت پر دو طرفہ تنقید کے بعد ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکرٹری کرسٹی نوم کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی دوسری مدت کا غیر سرکاری نعرہ کہ ’’کسی کو نہیں نکالا جائے گا‘‘ اب ختم ہو چکا ہے۔ ماضی میں صدر ٹرمپ اپنے اعلیٰ حکام کو برطرف کرنے کی مخالفت کرتے تھے کیونکہ وہ اسے ڈیموکریٹس اور میڈیا کے سامنے جھکنے کے مترادف سمجھتے تھے۔

تاہم ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے صدر کی سیاسی حمایت میں آنے والی کمی نے انتظامیہ کی سوچ کو بدل دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ کرسٹی نوم کی برطرفی پر ملنے والے ردعمل نے صدر ٹرمپ کے حوصلے بلند کئے جس کے نتیجے میں انہوں نے پام بونڈی کو بھی ہٹانے کا فیصلہ کیا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں