ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان نے پٹرول و ڈیزل قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے نظرثانی کا مطالبہ کردیا۔
جاری بیان میں ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان نے کہا ہے کہ کونسل حکومت پاکستان کی جانب سے پٹرول و ڈیزل قیمتوں میں اضافے پر سخت تشویش و اصولی اعتراض کرتی ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عوام پہلے ہی شدید مہنگائی اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں عام شہری کی قوتِ خرید مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
کونسل نے کہا ہے کہ علاقائی یا عالمی کشیدگی کو بنیاد بنا کر قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کرنا مناسب جواز فراہم نہیں کرتا، خصوصا اس تناظر میں کہ عالمی منڈی میں تیل کی ترسیل مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئی اور ملک کے پاس توانائی کے متبادل ذرائع موجود ہیں۔
اس کے باوجود قیمتوں میں اس سطح کا اضافہ پالیسی شفافیت اور عوامی مفاد کے تقاضوں سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف مہنگائی کے دباؤ میں مزید شدت پیدا کرے گا بلکہ ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ اور خدمات شعبوں میں اضافی بوجھ کے ذریعے عام آدمی کی روزمرہ زندگی کو براہِ راست متاثر کرے گا، جو بنیادی انسانی حقوق، بالخصوص باوقار معیارِ زندگی، پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
کونسل نے حکومت سے فیصلے پر فوری نظرثانی، عوام کو قابل عمل ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جو پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے عمل میں شفافیت و جوابدہی کو یقینی بنائے۔
کونسل نے کہا ہے کہ ایسا نہ کیا گیا تو بڑھتا عوامی اضطراب سماجی و معاشی عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے جس کے ذمہ دار براہ راست پالیسی ساز ہوں گے۔


