واشنگٹن (شِنہوا) امریکہ نے وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز پر عائد پابندیاں ختم کر دیں۔ یہ بات امریکی محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک اپ ڈیٹ میں بتائی گئی ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے غیر ملکی اثاثہ جات پر کنٹرول کے دفتر (او ایف اے سی) نے کہا کہ روڈریگیز کا نام پابندیوں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے، تاہم اس فیصلے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں روڈریگیز نے اس اقدام کو دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانے اور مضبوط بنانے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وینزویلا پر عائد مزید پابندیاں بھی ہٹائی جا سکتی ہیں تاکہ معاشی ترقی اور تعاون کو فروغ ملے۔
روڈریگیز اس سے قبل صدر نکولس مادورو کے دور حکومت میں نائب صدر رہ چکی ہیں اور انہیں 2018 میں امریکہ نے حکومتی عہدیداروں کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کے تحت پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
3 جنوری کو امریکی فوج نے وینزویلا کے خلاف بڑے پیمانے پر ایک کارروائی کرتے ہوئے مادورو اور ان کی اہلیہ کو زبردستی حراست میں لے کر نیویارک منتقل کر دیا تھا۔ اس کے بعد روڈریگیز نے قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھالا اور واشنگٹن نے تب سے ان کی انتظامیہ کے ساتھ رابطے شروع کر دیئے ہیں۔
امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات طویل عرصے سے کشیدہ رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں امریکہ نے خاص طور پر توانائی کے شعبے میں کچھ پابندیوں میں نرمی کی ہے۔ وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے اور عالمی توانائی کے منظرنامے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پیر کے روز کراکس میں امریکی سفارتخانہ 7 سال بند رہنے کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔


