ہومانٹرنیشنلایران مخالف پالیسیاں، صدر ٹرمپ کی عوامی حمایت میں نمایاں کمی

ایران مخالف پالیسیاں، صدر ٹرمپ کی عوامی حمایت میں نمایاں کمی

ایران مخالف پالیسیوں اور ممکنہ جنگی اقدامات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی حمایت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جبکہ انکی مجموعی مقبولیت بھی کم ہو کر 33 فیصد تک آ گئی ہے۔

یونیورسٹی آف میساچوسٹس مہرسٹ کی جانب سے جاری کئے گئے حالیہ سروے کے مطابق صرف 33 فیصد امریکی شہریوں نے ٹرمپ کی کارکردگی کو سراہا جبکہ 62 فیصد افراد نے ان کی پالیسیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

سروے میں خاص طور پر ایران کے حوالے سے ٹرمپ کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے گئے، نتائج کے مطابق صرف 29فیصد افراد نے ایران کیخلاف کارروائیوں کی حمایت کی جبکہ 63 فیصد امریکی عوام نے اس پالیسی کو مسترد کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق صرف خارجہ پالیسی ہی نہیں بلکہ اندرونی مسائل پر بھی عوام کی بڑی تعداد ٹرمپ سے ناخوش نظر آتی ہے۔

مہنگائی کے معاملے پر 71فیصد افراد نے حکومتی کارکردگی کو ناقص قرار دیا جبکہ روزگار، امیگریشن اور ٹیرف پالیسیوں پر بھی شدید تنقید سامنے آئی۔

سروے میں انکشاف ہوا کہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کو ووٹ دینے والے 17فیصد افراد اب اپنے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں جو انکی گرتی ہوئی مقبولیت کا ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار امریکی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں عوام خارجہ پالیسی کیساتھ ساتھ معاشی مسائل کو بھی زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں