ٹوکیو (شِنہوا) جاپان کی گراؤنڈ سیلف ڈیفنس فورس (جی ایس ڈی ایف) کے ایک نوجوان افسر سے متعلق ایک چونکا دینے والے واقعے نے محض ایک سکیورٹی خلاف ورزی سے کہیں بڑھ کر اثرات مرتب کئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے اس افسر نے خاردار تاروں کی دیوار پھلانگ کر 18 سینٹی میٹر کے بلیڈ کے ساتھ چینی سفارت خانے میں داخل ہونے کی کوشش کی اور "خدا کے نام پر” چینی سفارتی عملے کو قتل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔
جاپانی پولیس نے اس کیس کو صرف "غیر قانونی داخلے” کے معمولی الزام کے تحت درج کیا جبکہ وزیر دفاع سمیت اعلیٰ حکام نے اسے محض "انتہائی افسوسناک” قرار دے کر رسمی ردعمل دیا۔
تاہم 23 سالہ جی ایس ڈی ایف سیکنڈ لیفٹیننٹ کوڈائی موراتا کے جرم کو محض ایک "الگ تھلگ سکیورٹی واقعہ” قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بلکہ یہ جاپانی معاشرے اور اس کے عسکری اداروں کے اندر گہرے رجحانات کو ظاہر کرتا ہے جن میں نظریاتی بگاڑ، سیاسی شدت پسندی اور ادارہ جاتی غفلت شامل ہیں۔
جاپانی میڈیا رپورٹس کے مطابق موراتا نے حال ہی میں جی ایس ڈی ایف آفیسر کینڈیڈیٹ سکول سے گریجویشن کیا تھا جو جاپان کی فوجی قیادت تیار کرنے کا ادارہ ہے مگر اب اسے تاریخی حقائق میں تحریف کے رجحان سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 2024 میں اس ادارے میں استعمال ہونے والی درسی کتب میں اوکیناوا کی جنگ کو "جاپانی افواج کی بہادری سے طویل لڑائی” کے طور پر بیان کیا گیا جبکہ مقامی شہریوں کے خلاف جاپانی فوج کے مظالم کا ذکر شامل نہیں تھا۔ بعد ازاں عوامی دباؤ پر کچھ حد تک ترامیم کی گئیں۔
اس مسئلے کی جڑ میں نام نہاد "یاسوکونی تاریخی نقطہ نظر” کا اثر ہے جو جاپان کی جنگی جارحیت کو مکمل مٹا کر پیش کرتا ہے۔
سیلف ڈیفنس فورس کے افسران تیار کرنے والے بنیادی مرکز، جاپان کی نیشنل ڈیفنس اکیڈمی جیسے اداروں میں کیڈٹس کو جسمانی و ذہنی مضبوطی کے نام پر مارچ کروا کر یاسوکونی مزار تک لے جایا جاتا ہے جو جاپانی عسکریت پسندی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور جہاں 14 کلاس-اے جنگی مجرموں کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ ایسی سرگرمیاں مستقبل کے فوجی رہنماؤں میں تاریخ کے مسخ شدہ تصور کو معمول بنا سکتی ہیں۔
یہ اندرونی نظریاتی تشکیل ایک ایسے سیاسی ماحول کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہے جو تیزی سے دائیں بازو کی طرف مائل ہو رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں جاپان میں دائیں بازو کی قوتوں نے اسلحہ برآمدات پر پابندیوں میں نرمی اور "جوابی حملے کی صلاحیت” حاصل کرنے پر زور دیا ہے جو جاپان کے امن پسند آئین کی روح کو کمزور کرنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ وزیراعظم سنائی تاکائیچی کے اقتدار میں آنے کے بعد اس رجحان میں مزید تیزی آئی ہے۔
سیاسی بیانیے اور سماجی رجحانات کے اس امتزاج نے ایک غیر مستحکم ماحول پیدا کر دیا ہے۔
چینی سفارت خانے میں دراندازی کا یہ واقعہ کسی ایک فرد کی انتہا پسندی کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل مدتی نظریاتی اثرات کا مجموعی اظہار معلوم ہوتا ہے اور اس میں جاپان کے عسکری ماضی کی جھلک کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ واقعہ ایک وسیع تر انتباہ بھی ہے۔ جب مسلح اہلکار سفارتی اصولوں اور آئینی ضوابط کو چیلنج کرنے لگیں تو خطرہ محض ایک غیر متوقع واقعہ نہیں رہتا بلکہ ایک نظامی مسئلہ بن جاتا ہے۔
بین الاقوامی برادری کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس صورتحال پر گہری نظر رکھے کیونکہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ عسکری سوچ کی واپسی ابتدا میں خاموش ہوتی ہے مگر اس کے نتائج دور رس ہو سکتے ہیں۔


