ہومتازہ ترینچینی طبی ٹیم کا موزمبیق کے یتیم خانے کا دورہ، بچوں کا...

چینی طبی ٹیم کا موزمبیق کے یتیم خانے کا دورہ، بچوں کا مفت علاج، خوراک اور تعلیمی سامان عطیہ کیا

موزمبیق کے دارالحکومت ماپوتو کے نواحی شہر ماتولا میں ہفتے کے روز 26ویں چینی طبی ٹیم نے اورفاناٹو آکوسیدا یتیم خانے کے بچوں کو مفت طبی خدمات فراہم کیں اور ضروری سامان بھی عطیہ کیا۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): چن جیالے، سربراہ 26ویں چینی طبی ٹیم

"آج ہم بچوں کے لئے تین سرگرمیاں لے کر آئے ہیں۔ پہلی یہ کہ طبی ٹیم نے خوراک اور تعلیمی سامان کا ایک بیچ عطیہ کیا۔ دوسری یہ کہ ہم نے بچوں کے طبی معائنے کئے۔ تیسری یہ کہ ہم نے روایتی چینی تفریحی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جن میں سینڈ بیگ پھینکنا اور رسی کودنا شامل تھے۔ اس کا مقصد بچوں کو یہ بتانا تھا کہ چینی بچے کس طرح کی سرگرمیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

سال 2026 چین اور افریقہ کے درمیان عوامی سطح کے رابطوں کا سال ہے۔ اسی کے ساتھ چین کے صوبہ سیچھوان کی جانب سے موزمبیق کو طبی امداد کے 50 سال بھی مکمل ہو رہے ہیں۔ اس اہم موقع پر طبی ٹیم مختلف عوامی فلاحی سرگرمیاں انجام دے رہی ہے جن میں مفت طبی کیمپوں کا انعقاد، کمیونٹیز، سکولوں اور کاروباری اداروں کے دورے شامل ہیں تاکہ چین اور موزمبیق کے درمیان دوستی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔”

ٹومیسانے ماکامو اس یتیم خانے کے نمائندے ہیں اور طویل عرصے سے یہاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس ادارے میں اس وقت تقریباً 80 رہائشی بچے موجود ہیں جبکہ 20 سے زائد وہ بچے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر یہاں آتے ہیں۔

انہوں نے چینی طبی ٹیم کے اقدام کو سراہا اور کہا کہ بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے پیشہ ورانہ طبی سہولیات تک رسائی انتہائی ضروری ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (پرتگالی): ٹومیسانے ماکامو، نمائندہ اورفاناٹو آکوسیدا یتیم خانہ

"اس معزز ٹیم کا یہ اقدام قابل تعریف ہے کیونکہ حقیقت میں ہم ایک غریب ادارہ ہیں اور ہمیں خاص طور پر صحت کے شعبے میں ماہرین کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی حالت کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور جان سکیں کہ ہم کس حالت میں ہیں۔”

چین سال 1976 سے موزمبیق میں طبی ٹیمیں بھیج رہا ہے۔ موجودہ ٹیم 26واں دستہ ہے۔ اس ٹیم میں امراض ہڈی و جوڑ، زچہ و بچہ، اینستھیزیا، جمالیاتی طب اور روایتی چینی طب سمیت مختلف شعبوں کے ماہر ڈاکٹر شامل ہیں۔

ماپوتو سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں