چین جرمن کارساز کمپنی آؤڈی کے لئے بدستور توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آؤڈی نے برقی گاڑیوں کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ مقامی شراکت داریوں کو بھی مضبوط کیا ہے۔ یہ بات کمپنی کے عالمی چیف ایگزیکٹو جرنوٹ ڈولنر نے چین کی تیز رفتار تکنیکی ترقی اور چینی منڈی میں موجود امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے بتائی۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): جرنوٹ ڈوئلنر، عالمی چیف ایگزیکٹو، آؤڈی
"چین کے ساتھ ہمارے پائیدار کاروباری تعلقات 40 برسوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ہم چین میں 35 سال سے زیادہ عرصے سے پیداوار کر رہے ہیں۔ یہ باتیں اس امر کا ثبوت ہیں کہ آؤڈی بطور کمپنی چینی منڈی کے بہت زیادہ قریب ہے۔
چین مستقبل میں بھی آؤڈی کے لئے بدستور اہم ترین منڈیوں میں سے شامل رہے گا۔”
آؤڈی کی جانب سے سال 2025 کی مالیاتی رپورٹ کے اجرا کے موقع پر ڈولنر نے شِنہوا کو بتایا کہ چین کی تیز رفتار جدت گاڑیوں کی صنعت کے منظرنامے کو بدل رہی ہے۔
آؤڈی نے دو سال قبل چین میں ایک ذیلی برانڈ متعارف کرایا جس کا مقصد تیزی سے ترقی کرنے والی نئی توانائی کی گاڑیوں کی منڈی میں قدم رکھنا اور اپنے مرکزی چار حلقوں والے برانڈ کو مقامی طور پر ڈھالنا تھا ۔
ڈولنر نے بتایا کہ چینی شراکت داری کے لئے کمپنی طویل مدتی عزم رکھتی ہے اور اس مقصد کے لئے تکنیکی صلاحیتوں اور منڈی میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): جرنوٹ ڈوئلنر، عالمی چیف ایگزیکٹو، آؤڈی
” ہماری شراکت داریاں چین میں جرمن گاڑیوں کی پیداوار سے تبدیل ہو کر اب شراکت داروں اور ’ کیٹل‘ اور ’ہواوے‘ جیسی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ گہرے تعاون میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ اس طرح ہم اپنی تیارکردہ گاڑیوں میں بھی چینی ٹیکنالوجی لا رہے ہیں۔ میرے خیال میں یہ مشترکہ مستقبل کی تشکیل کا ایک بہترین طریقہ ہے تاکہ دونوں جانب کی بہترین خصوصیات کو چین میں اکٹھا کیا جا سکے۔
جرمن انجینئرنگ یعنی گاڑیوں کی چیسس، سیفٹی اور باڈی انجینئرنگ جیسی بنیادی ٹیکنالوجیز میں ہماری مہارت چین کی ماحول دوست ٹیکنالوجی کے امتزاج کے نتیجے میں بہترین نتائج دیتی ہے۔ اس سے واقعی چینی صارفین کی ضروریات بھی پوری ہوتی ہیں۔
ہم اس موقع پر مضبوط پوزیشن میں ہیں ۔ ہم اسی راستے پر آگے بڑھتے ہوئے چین کی منڈی میں اپنی حیثیت کو مزید مستحکم کر رہے ہیں۔ ہم مستقبل کے حوالے سے انتہائی پُرامید ہیں۔”
سال 2025 میں آؤڈی نے چین میں 6 لاکھ 17 ہزار 514 گاڑیاں فراہم کیں۔ اس طرح یہ ملک میں اعلیٰ معیار کی گاڑیاں بنانے والی معروف برانڈز میں سرفہرست رہی۔
برلن سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


