نیویارک (شِنہوا) امریکی سنٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ 3 ہزار 500 میرین اور سیلرز پر مشتمل ایک ٹاسک فورس مشرق وسطیٰ پہنچ گئی ہے۔
سنٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک مختصر بیان میں کہا کہ یو ایس ایس ٹریپولی پر سوار امریکی سیلرز اور میرینز 27 مارچ کو امریکی سنٹرل کمانڈ کی ذمہ داری کے علاقے میں پہنچ گئے۔
وال سٹریٹ جرنل نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ پینٹاگون مشرق وسطیٰ میں مزید 10 ہزار زمینی فوجی تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ امریکی صدر کو سفارتکاری کے علاوہ مزید فوجی اختیارات حاصل ہوں۔
محکمہ دفاع کے اہلکاروں کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس فورس میں ممکنہ طور پر انفنٹری اور آرمرڈ وہیکلز شامل ہوں گے، جو اس خطے میں پہلے سے تعینات تقریباً 5 ہزار میرینز اور 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے ہزاروں پیراٹروپرز میں شامل کئے جائیں گے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یہ واضح نہیں کہ فورسز بالکل مشرق وسطیٰ کے کس مقام پر تعینات کی جائیں گی، لیکن امکان ہے کہ وہ ایران اور اس کے خارگ جزیرے کے قریب ہوں گے، جو تیل کی برآمد کا ایک اہم مرکز ہے۔


