واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صارفین کا اعتماد مارچ میں تین ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے، جس کی وجہ ایران کے ساتھ تنازع بتایا گیا ہے۔ یہ انکشاف یونیورسٹی آف مشی گن کی جانب سے جاری کردہ صارفین کے اعتماد کے انڈیکس سے ہوا ہے۔
سروے آف کنزیومرز کی ڈائریکٹر جوان سو کا کہنا ہے کہ صارفین کا اعتماد اس ماہ 6 فیصد کم ہو کر دسمبر 2025 کے بعد سب سے کم سطح پر آ گیا ہے۔
یہ گراوٹ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سٹاک مارکیٹ میں کمی کے دوران سامنے آیا ہے۔
سنٹر فار اکنامک اینڈ پالیسی ریسرچ کے شریک بانی ڈین بیکر نے شِنہوا سے گفتگو میں کہا کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے اور جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے، میں حقیقت میں حیران ہوں کہ اعتماد اتنا زیادہ نہیں گرا۔
بیکر نے کہا کہ لوگوں کے پاس خرچ کرنے کے لئے کم پیسے ہیں، کیونکہ گیس کی قیمتیں اور دیگر شعبوں میں مہنگائی بڑھ رہی ہے اور وہ مستقبل کے بارے میں بہت فکر مند ہیں۔
صارفین کے اعتماد میں کمی ہر عمر کے گروہوں اور سیاسی وابستگی رکھنے والوں میں دیکھی گئی۔
رپورٹ کے مطابق درمیانے اور زیادہ آمدنی والے صارفین اور سٹاک کی دولت رکھنے والے صارفین نے خاص طور پر اعتماد میں بڑی کمی دکھائی۔
مختصر مدتی اقتصادی توقعات میں 14 فیصد کمی آئی اور اگلے سال کی متوقع ذاتی مالی صورتحال میں 10 فیصد کمی دیکھی گئی۔
دریں اثنا سروے میں بتایا گیا کہ اگلے سال کے لئے مہنگائی کی توقعات فروری کے 3.4 فیصد سے بڑھ کر اس ماہ 3.8 فیصد ہو گئی ہیں، جو اپریل 2025 کے بعد ایک ماہ میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔
کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ کئی عوامل صارفین کو فکر مند کر رہے ہیں۔
پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس کے نان ریذیڈنٹ سینئر فیلو گیری کلائیڈ ہیوباور نے شِنہوا کو بتایا کہ صارفین کئی وجوہات کی بنا پر پریشان ہیں، وہ آنے والے مشکل وقت دیکھ رہے ہیں۔ صارفین کا اعتماد بدلنے کے لئے واقعی اچھی خبر کی ضرورت ہوگی۔


