بیجنگ میں جمعہ کے روز 70 سے زائد غیر ملکی سفارتکاروں نے ایک اجلاس کر کےچین کے شمال مغربی سنکیانگ ویغور خودمختار علاقےکی ترقی پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
اجلاس میں اقتصادی و سماجی ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں حاصل کی گئی کامیابیوں پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔
اجلاس کے شرکا میں تین بین الاقوامی تنظیموں کے علاوہ 40 ممالک اور خطوں کے نمائندے شامل تھے۔
شرکاء نے سنکیانگ کی ترقی کو سراہا اور خطے کے اپنے دوروں کے ذاتی تجربات بھی شیئر کئے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): چاری محمد شالییف، ڈائریکٹر، سینٹرل ایشیا ریجنل اکنامک کوآپریشن انسٹی ٹیوٹ
"گزشتہ چند برسوں میں سنکیانگ نے نمایاں پیشرفت کی ہے۔اس کی 70 برسوں پر محیط کامیابیوں کی یہ کہانی ثابت کرتی ہے کہ ترقی عوام کے لئےہونی چاہئے، عوام کے ذریعے ہونی چاہئے اور عوام کے ساتھ مل کر ہونی چاہئے۔
ہم نے سنکیانگ میں عظیم مواقع دیکھے ہیں۔ہمیں امید بھی ہے اور یقین بھی کہ سنکیانگ مستقبل میں بڑی کامیابیاں حاصل کرے گا اور ترقی کے اگلے مرحلے کا ہراول دستہ بنے گا۔”
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): سہیل خان، ڈپٹی سیکرٹری جنرل، شنگھائی تعاون تنظیم
"سیاسی، اقتصادی،انسانی اور ثقافتی ترقی اور نمو کے لحاظ سے دیکھا جائے تو سنکیانگ نے واقعی بہت اہم پیشرفت کی ہے۔
سنکیانگ ہمارے لئے نہایت کلیدی اور مرکزی مقام کا حامل ہے۔ ہم اسے یوریشیا اور شنگھائی تعاون تنظیم میں داخلے کا ایک دروازہ سمجھتے ہیں۔”
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): خلیل ہاشمی، چین میں پاکستان کے سفیر
"میں بہت خوش قسمت ہوں کہ تبادلہ خیال کی ان تمام تینوں نشستوں میں شریک رہا ہوں۔ میں نے کم از کم سات مرتبہ سنکیانگ کا دورہ کیا۔ وہاں بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں بڑی تبدیلی آئی ہے لیکن میرے خیال میں یہ چیز لوگوں کے معیار زندگی میں زیادہ واضح دکھائی دیتی ہے۔ یہاں ان کی آمدنیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
سنکیانگ بلاشبہ ایک اہم داخلی دروازہ ہے۔ یہ تاریخی شاہراہ ریشم کا مرکز رہا اور اب بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی شہ رگ ہے۔ اسی لئے یہاں تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔”
بیجنگ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
بیجنگ میں سنکیانگ کی ترقی پر بین الاقوامی سفیروں کا اجلاس
70 سے زائد غیر ملکی سفارتکار، عالمی تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے
اقتصادی و سماجی ترقی اور انسانی حقوق کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا
شرکاء نے حالیہ برسوں میں سنکیانگ کی نمایاں ترقی کو سراہا
چاری محمد شالییف نےچین کی ترقی کو عوامی شمولیت کی عکاس قرار دیا
سہیل خان کے مطابق سنکیانگ یوریشیا میں داخلے کا اہم دروازہ ہے
پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی نے چینی عوام کے معیارِ زندگی کا بطور خاص ذکر کیا
سنکیانگ میں تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع موجود ہیں
شاہراہ ریشم کا یہ مرکز اب بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی شہہ رگ بن گیا ہے


