وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے رائٹ ٹو سروسز کمیشن کی ڈیجیٹائزیشن جلد مکمل، شہریوں کو دستیاب خدمات سے آگاہی کیلئے مہم چلانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خدمات فراہمی میں تاخیر ناقابل برداشت ہے، انتظامی رکاوٹیں ختم کر کے شکایات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
ترجمان وزیراعلی ہاؤس پشاور کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جمعہ کو وزیر اعلی سہیل آفریدی کی زیر صدارت رائٹ ٹو سروسز کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں خدمات کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کیلئے اہم فیصلے کئے گئے۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کمیشن کے تحت 14محکموں کی 80خدمات نوٹیفائیڈ ہیں، 15 محکموں کی مزید 89 خدمات شامل کی جا رہی ہیں، کمیشن دستک پلیٹ فارم سے منسلک ہے جبکہ موبائل ایپلی کیشن بھی لانچ کر دی گئی تاہم ای میل، فون کال اور واٹس ایپ کے ذریعے بھی شکایات اندراج کی سہولت دستیاب ہوگی۔
شرکاء کو بتایا گیا کہ 2025ء میں 742شکایات کا ازالہ، گزشتہ سال 2024ء کے مقابلے میں 150فیصد اضافہ، پبلک آؤٹ ریچ 2024ء کے 69,100 سے بڑھ کر 2025ء میں 478,054 تک پہنچ گئی جبکہ خدمات میں تاخیر پر 8 مختلف محکموں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔
وزیراعلی نے رائٹ ٹو سروسز اور رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشنز کو مزید موثر اور فعال بنانے کی ہدایت کی جبکہ رائٹ ٹو سروسز کمیشن کا متعلقہ محکموں کیساتھ ادارہ جاتی انضمام ناگزیر قرار دیا۔
وزیراعلی نے کمیشن کی ڈیجیٹائزیشن جلد از جلد مکمل کرنے اور شہریوں کو کمیشن کے تحت دستیاب خدمات سے باخبر رکھنے کیلئے بھرپور آگاہی مہم چلانے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ خدمات فراہمی میں تاخیر ناقابل برداشت ہے، انتظامی رکاوٹیں ختم کر کے شکایات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں کمیشن کو مضبوط بنانے کیلئے مجوزہ اقدامات کمشنرز کی تعیناتی کا بھی فیصلہ کیا گیا۔


