ہومانٹرنیشنلچینی اور اطالوی ماہرین حیاتیاتی تنوع میں گہرے تعاون کے خواہاں

چینی اور اطالوی ماہرین حیاتیاتی تنوع میں گہرے تعاون کے خواہاں

نیپلز (شِنہوا) چینی اور اطالوی ماہرین نے اٹلی میں شروع ہونے والی تیسری چین-اٹلی حیاتیاتی تنوع کانفرنس میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے حوالے سے مزید گہرے اور طویل المدتی تعاون کے مواقع تلاش کئے۔

اٹلی کے قومی حیاتیاتی تنوع فیوچر سنٹر (این بی ایف سی) کے صدر لوئیجی فیورینٹینو نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون تیزی سے بڑھ رہا ہے اور ٹھوس نتائج فراہم کر رہا ہے، اس کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان متعدد معاہدوں پر دستخط کئے گئے ہیں اور اہم تحقیقی اقدامات شروع کئے گئے ہیں۔

انہوں نے شہری حیاتیاتی تنوع کی اہمیت کو اجاگر کیا اور نشاندہی کی کہ دونوں ممالک میں شہری ترقی کی مضبوط بنیادیں قائم ہیں، اس لئے اس شعبے میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

چائنیز اکیڈمی آف سائنس (سی اے ایس) کی حیاتیاتی تنوع کمیٹی کے نائب ڈائریکٹر اور سیکرٹری جنرل ما کی پھنگ نے کہا کہ چین اور اٹلی کی مشترکہ کوششیں عالمی حیاتیاتی تنوع کے نظم ونسق میں ان کی سائنسی کمیونٹیز کے اثر و رسوخ میں اضافہ کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ کونمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک 2030 اور اس کے بعد کے اقدامات کے لئے واضح روڈ میپ فراہم کرتا ہے۔

اٹلی میں چینی سفارتخانے کے منسٹر-کونسلر لو پھنگ نے کہا کہ یہ کانفرنس حیاتیاتی تنوع کے تعاون کو گہرا کرنے کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم بن گئی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چین کی 15 ویں پانچ سالہ منصوبے میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے بڑےمنصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے، جس سے اٹلی کے ساتھ تعاون کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں