تہران (شِنہوا) ایران نے بحرین اور متحدہ عرب امارات میں ہوٹل مالکان کو آخری انتباہ جاری کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ امریکی فوجی اہلکاروں کو ٹھہرانے والے مقامات جائز عسکری اہداف بن سکتے ہیں۔
ایران کے نیم سرکاری خبررساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی میزائل حملوں اور اتحادی گروپوں کی مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر کارروائیوں کے بعد امریکی فوجیوں نے علاقے کے ہوٹلوں میں پناہ لے لی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ انتباہ ہر اس جگہ پر لاگو ہوتا ہے جہاں غیر ملکی فوجی ٹھہرتے ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو فوری کارروائی ہوگی۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی اہلکاروں نے خطے بھر میں شہری مقامات پر اپنی موجودگی قائم کر لی ہے، جن میں بیروت کے پرانے ہوائی اڈے کے قریب ایک لاجسٹک بیس اور دمشق کے ریپبلک پیلس، فور سیزنز ہوٹل اور شیرٹن ہوٹل میں مشاورتی آپریشنز شامل ہیں۔ بتایا گیا کہ امریکی میرینز کو اس ہفتے استنبول اور صوفیہ کے راستے جبوتی انٹرنیشنل ایئرپورٹ منتقل کیا گیا۔
جمعرات کو ہی ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے خلیجی عرب ممالک کے ہوٹلوں کو امریکی فوجی اہلکار قبول نہ کرنے کا انتباہ کیا تھا اور ان فوجیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے اڈوں سے فرار ہوکر شہری مقامات چھپنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔
عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اس جنگ کے آغاز سے ہی امریکی فوجی خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے فوجی اڈوں سے فرار ہو کر ہوٹلوں اور دفاتر میں چھپ گئے۔ وہ جی سی سی کے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے صورتحال کا موازنہ امریکی ہوٹلوں سے کیا جہاں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایسے افسران کی بکنگ نہیں کی جاتی جو گاہکوں کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں، انہوں نے خلیجی ہوٹلوں سے بھی یہی عمل اپنانے کا کہا۔


